عمران خان

عمران خان کے ایک سال میں483 بیانات مگر فلسطین پر خاموشی آخرکیوں؟

غزہ جنگ کو آج دوسال کا عرصہ مکمل ہوگیا مگر سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک سال سے 483 بیانات دینے کے باوجود فلسطین اور اسرائیل بارے خاموش ہیں ۔

سیاست میں بیانات اور موقف لازم و ملزوم ہیں خاص طور پر بات جب بڑے انسانی بنیادی مسائل کی ہو جیسے فلسطین مگر حال ہی میں ایک سوال یہ شدت سے گردش کررہا ہے کہ ایک سال میں 483 مختلف بیانات دینے کے باوجود عمران خان نے فلسطین کے معاملے پر کیوں خاموشی اختیار کر رکھی ہے ؟۔

اگرچہ سابق وزیراعظم کا دعوٰی ہے کہ وہ 80 فیصد پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہیں تاہم ایک سال سے فلسطین پر خاموشی معنی خیز سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے ۔

سابق وزیرِاعظم نے گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف قومی و بین الاقوامی امور پر 483 سے زائد بیانات دیے، تاہم فلسطین اور اسرائیل کے جاری تنازع پر ان کا کوئی واضح یا براہِ راست ردعمل سامنے نہیں آیا ۔

483 بیانات میں عمران خان نے 7 اکتوبر 2023ء کے بعد فلسطین اور اسرائیل پر کل 9 بیانات جاری کیے ہیں ، عمران خان نے آخری بیان 2 اکتوبر 2024 کو اسماعیل ھنیہ اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت پر دیا ۔

عوامی بیانات کی تعداد:
عمران خان نے ستمبر 2023 سے ستمبر 2024 کے دوران مختلف موضوعات پر 483 عوامی بیانات، ویڈیوز یا عدالتی گفتگو کے ذریعے مؤقف اختیار کیا ۔

سیاسی بیانات : 
ان بیانات میں زیادہ تر توجہ اندرونی سیاسی حالات، احتجاج ، عدالتی مقدمات، آئین کی بالادستی، فوج کے کردار اور پی ٹی آئی کی تنظیم نو پر مرکوز رہی ۔

فلسطین ۔ اسرائیل جنگ کا آغاز:
اسرائیل اور غزہ کے درمیان جاری کشیدگی 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی، جس میں اب تک 60ہزار کے لگ بھگ فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں اور لاکھوں زخمی و لاپتہ ہیں ۔

سوشل میڈیا پر خاموشی:
ماہرین کے مطابق عمران خان ماضی میں فلسطین کے حق میں متعدد بار آواز بلند کر چکے ہیں، تاہم اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیل-غزہ جنگ پر ان کی خاموشی مختلف حلقوں میں سوالات کو جنم دے رہی ہے ۔

عمران خان نے 2019–2022 کے دورِ حکومت میں فلسطین کی حمایت میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، OIC اجلاس اور دیگر عالمی فورمز پر کئی بار بیانات دیے، جس میں دو ریاستی حل اور انسانی حقوق کی بحالی پر زور دیا گیا ۔

عمران خان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس (بشمول X (سابقہ ٹوئٹر)، فیس بک) پر بھی فلسطین یا غزہ جنگ کے حوالے سے کوئی بیان، ہمدردی یا مذمت کی پوسٹ سامنے نہیں آئی ۔

عوامی و سوشل عالمی ردعمل:
سوشل میڈیا صارفین اور عالمی میڈیا کی جانب سے عمران خان کے اس خاموش رویے پر سوالات اٹھا ے جارہے ہیں جس میں کہا گیا کہ عالمی انسانی بحران پر مؤقف دینا سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہونا چاہیے ۔

Scroll to Top