(30 ستمبر 2025)پاکستان میں سونے کی قیمت آج نئی تاریخی بلندی پر پہنچ گئی، جس کے مطابق فی تولہ سونا پہلی بار 4 لاکھ 6 ہزار 778 روپے تک جا پہنچا، جو کل (29 ستمبر) کے 4 لاکھ 3 ہزار 600 روپے کے مقابلے میں 3 ہزار 178 روپے زیادہ ہے۔
24 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت بھی کل کے 3 لاکھ 46 ہزار 21 روپے کے مقابلے میں 2 ہزار 725 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 48 ہزار 746 روپے ہو گئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونا 37 ڈالر بڑھ کر 3ہزار8سو55 ڈالر تک جا پہنچا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن اور فیڈرل ریزرو کی سود کی شرح میں کمی کی توقعات نے عالمی سطح پر سونے کی طلب بڑھا دی ہے، جس سے مقامی سطح پر بھی قیمتیں بلند ہوئیں۔
ادھرچاندی کی قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی، 24 قیراط چاندی کی قیمت فی تولہ 16 روپے کمی کے بعد 4 ہزار7 سو 76روپے اور 10 گرام چاندی کی قیمت 14 روپے گھٹ کر 4 ہزار94روپے ہو گئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 46.77 ڈالر فی اونس رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کے اتار چڑھاؤ، افراط زر اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب سونے کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ سونا ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے اور سیاسی و معاشی غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کار اسے ترجیح دیتے ہیں۔
ادھر پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ KSE-100 انڈیکس 163,847.68 سے بڑھ کر 166,556 پوائنٹس تک پہنچ گیا، یعنی 2,000 سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ یہ تیزی ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کی مثبت اقتصادی رپورٹ کے بعد آئی۔ ADB کے مطابق پاکستان کی معیشت درمیانے عرصے میں مستحکم رہنے کی توقع ہے، اور مالی سال 2026 میں GDP کی ترقی 3٪ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی IMF کے پروگرام کے تحت اقتصادی اصلاحات بھی جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسی کی استحکام اور ماحولیاتی تحفظ بہت ضروری ہیں، اور پاکستان کو ابھی بھی ساختی مشکلات جیسے حالیہ سیلاب کا سامنا ہے، جن کے پیش نظر اصلاحات اور پالیسی پر عمل درآمد ضروری ہے۔
سونا ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے اور غیر یقینی معاشی یا سیاسی حالات میں سرمایہ کار اسے ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کو خود نہیں پتہ کیا چاہیے؟ احمد رضا قادری کا واضح مؤقف




