عوامی ایکشن کمیٹی کو خود نہیں پتہ کیا چاہیے؟ احمد رضا قادری کا واضح مؤقف

وزیر آزاد کشمیر احمد رضا قادری نے کشمیردیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بدلتے مطالبات سے خود انہیں بھی واضح نہیں کہ اصل مؤقف کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیچیدہ معاملات ایک رات میں طے نہیں ہو سکتے، اس پر پاکستان حکومت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

وامی ایکشن کمیٹی نے ابتدائی طور پر مطالبہ کیا تھا کہ کمرشل بلز کو 40 کے وی لوڈ تک سبسڈائزڈ ریٹ پر فراہم کیا جائے، جس کی آزاد کشمیر حکومت اور وفاقی وزراء نے حمایت کی تو کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تو چھ ماہ پرانا مطالبہ تھا اور اب ان کا نیا مطالبہ 160 کے وی پر ہے۔ احمد رضا قادری کے مطابق یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ کمیٹی خود اپنے مطالبات پر واضح نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ آزاد کشمیر کا فیصلہ موجود ہے، جس پر پاکستان حکومت سے بیٹھ کر بات چیت ضروری ہے لیکن یہ عمل راتوں رات ممکن نہیں ہو سکتا۔

احمد رضا قادری نے آٹے سے متعلق مسائل پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی جینرلائزڈ سبسڈی چاہتی ہے لیکن ٹارگیٹڈ سبسڈی کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ آزاد کشمیر حکومت نے دو سال قبل امیر اور غریب دونوں کو یکساں سبسڈی دینے کے بجائے ٹارگیٹڈ سبسڈی متعارف کرائی تھی تاکہ سبسڈی صرف مستحق افراد تک پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں: سوزوکی آلٹو اب صرف 19 ہزار ماہانہ قسط پر دستیاب

انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر کی کل آبادی 20 لاکھ سے زائد نہیں لیکن حساب کتاب 45 لاکھ کی آبادی کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ حکومت پاسکو سے 3 لاکھ من سالانہ آٹا خرید کر 2000 روپے من کے حساب سے فراہم کرتی ہے۔ آزاد کشمیر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے باعث پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم ہے۔ احمد رضا قادری نے کہا کہ امیر اور غریب دونوں کو یکساں سبسڈی دینا غیر منطقی ہے، لیکن اس پالیسی پر بھی عوامی ایکشن کمیٹی اعتراض کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آٹے پر بھی ٹارگیٹڈ سبسڈی ہونی چاہیے۔

Scroll to Top