پارلیمانی پارٹی کا اظہار اعتماد،آئین و قانون سے ماورا کوئی بات قبول نہیں کی جائیگی ، وزیراعظم آزادکشمیر

اسلام آباد : وزیراعظم آزادکشمیرچوہدری انوارالحق نے پارلیمانی پارٹی کو یقین دہانی کرائی ہے ریاست میں کسی قسم کے جبر یا دھونس کو برداشت نہیں کیا جائیگا نہ آئین وقانون سے ماورا کوئی بات قبول کی جائیگی۔

اسلام آباد میں وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہواجس میں پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میںموسٹ سینئر وزیر کرنل(ر) وقار احمد نور ،ڈپٹی سپیکر چوہدری ریاض گجر، وزراء حکومت راجہ فیصل ممتاز راٹھور ،سردار محمد حسین ،نثار انصر ابدالی ،چوہدری یاسر سلطان ،چوہدری محمد رشید ،سردار عامر الطاف شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ تاریخی سنگ میل ہے، وزیراعظم آزادکشمیر

چوہدری ارشد ،چوہدری اظہر صادق ،سردار جاوید ایوب ،میاں عبدالوحید ،چوہدری قاسم مجید ،جاوید اقبال بڈھانوی ،دیوان علی خان چغتائی ،ظفر اقبال ملک ،راجہ محمد صدیق ،عاصم شریف بٹ ،احمد رضا قادری ،اکمل سرگالہ ،محترمہ تقدیس گیلانی ،مشیر حکومت محترمہ نبیلہ ایوب نے بھی شرکت کی ۔

اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ،مجموعی سیاسی صورتحال اور آزادکشمیر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کہا کہ بیس کیمپ کے طور پر ہماری حکومت کی اولین ترجیح مسئلہ کشمیر ہے ،حکومت نے اس سلسلے میں سپیکر قانون ساز اسمبلی کی سربراہی میں کشمیر کمیٹی قائم کر رکھی ہے جو فعال کردار ادا کر رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیگی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور آزادانہ نقل و حمل کے ان کی بنیادی حق کو یقینی بنایا جائیگا اس حوالے سے کسی قسم کے جبر یا دھونس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کشمیریوں کا محافظ،حقوق کی آڑ میں انتشار قبول نہیں، سیاسی قیادت

وزیراعظم نے اجلاس کو یقین دلایا کہ آئین و قانون سے ماورا کوئی بات قبول نہیں کی جائیگی ۔ترقیاتی عمل پوری رفتار سے جاری رہے گا ان شاءاللہ آزادکشمیر کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنایا جائے گا ۔

پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر وزیراعظم چوہدری انوارالحق کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ ایکشن کمیٹی نے29ستمبر کو احتجاج کا اعلان کیا ہے جس پر حکومت نے ان سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Scroll to Top