سری نگر-جموں شاہراہ بند: سیب برآمدات کو 800 تا1200 کروڑ کا خطرہ

(کشمیر ڈیجیٹل) سری نگر-جموں شاہراہ تقریباً دو ہفتے سے مسلسل بند ہے جس کے باعث سیب سے لدی ہزاروں گاڑیاں منڈیوں تک پہنچنے سے محروم ہیں۔

مقامی زرعی ماہرین اور تاجروں کا کہنا ہے کہ بروقت نقل و حمل نہ ہونے کی صورت میں سیب سڑ جائیں گے اور 800 سے 1200 کروڑ روپے تک کا معاشی نقصان متوقع ہے۔ یہ نقصان نہ صرف کسانوں کی سالانہ آمدنی کو برباد کرے گا بلکہ پورے علاقائی کھپت اور برآمدات کے سلسلے کو بھی درہم برہم کر دے گا۔

ماہرین کا مؤقف ہے کہ یہ منظم رکاوٹیں محض ٹریفک مسائل نہیں بلکہ مقصودانہ معاشی حربے کے مترادف ہیں جن کا نشانہ کشمیری زراعت اور عام خاندان ہیں۔ مقامی تجارتی حلقے کہتے ہیں کہ کشمیری ایک سال کے اخراجات ان سیبوں کی فروخت سے نکالتے ہیں؛ راستوں کی بندش سے گوجرانوالہ یا اسلام آباد تک برآمدی کنٹریکٹس خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ تاجر اور کسان دونوں حکومتی مداخلت اور ثالثی کے منتظر ہیں تاکہ پھل بروقت منڈی تک پہنچ سکیں اور معاشی تباہی روکی جا سکے۔

سیاسی مبصرین اس بندش کو بھارت کی معاشی حکمتِ عملی کے تحت کیے جانے والے دباؤ کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کا مقصد مقامی آبادی کو پریشانی میں مبتلا کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوراً بین الاقوامی اور علاقائی نیٹ ورکنگ کے ذریعے متبادل مارکیٹ راستے کھولنے، ٹھنڈی اسٹوریج اور بروقت امدادی پیکجز کی ضرورت نمایاں ہو گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوری طور پر تجارتی روٹس کھول کر کسانوں کے نقصان کو کم از کم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو نے دوحہ حملے سے پہلے ٹرمپ کو آگاہ کیا!امریکی میڈیا کا انکشاف

Scroll to Top