(کشمیر ڈیجیٹل)ملتان کی تحصیل جلالپور پیروالا کو چاروں اطراف سے سیلابی ریلوں نے گھیر لیا ہے اور شہر کو بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔ عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔
سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کے مطابق جلالپور پیروالا کو بچانے کے لیے بنائے گئے عارضی بند پر پانی کا دباؤ مسلسل برقرار ہے اور اب تک تحصیل کے نوے فیصد نواحی علاقے زیرآب آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر سے آبادی کو نکالنے کا عمل ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے۔
انتظامیہ کے مطابق گزشتہ رات اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈال کر پانی کا رخ موڑنے کی کوشش کی گئی تاکہ جلالپور پیروالا شہر کو بچایا جا سکے، تاہم اس اقدام کے باعث بستی لانگ، بستی کنہوں اور بہادر پور میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ ان بستیوں کو فوری طور پر خالی کرایا جا رہا ہے۔
86 ایم بند پر صبح سویرے سے ریسکیو آپریشن جاری ہے جس کی نگرانی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب سمیت دیگر وزراء کر رہے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے متاثرہ علاقوں سے انخلا کے لیے خود لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات بھی کیے۔
ریسکیو 1122 حکام کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہے اور تووالی، خانووالی اور بستی جام والا سمیت کئی علاقے زیرآب آ چکے ہیں۔ احمدپور شرقیہ کے علاقوں پپلی راجن شاہ اور ملحقہ دیہات میں بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کے نتیجے میں تحصیل علی پور کے مزید علاقے ڈوب گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بیٹ چنہ، شیخانی، کوٹلہ اگر، مسن کوٹ بھوآ اور شاہ وساوا سمیت کئی دیہات متاثر ہو چکے ہیں جبکہ خیرپور سادات کے بعض علاقے بھی پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فاسٹ باؤلر وقاص مقصود نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا
مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ سیت پور شہر کے بیشتر علاقے سیلاب میں غرق ہیں جہاں خوراک اور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق اب بھی ہزاروں افراد پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔




