جلالپور پیروالا میں اونچے درجے کا سیلاب، انخلا کی کوششیں تیز

(کشمیر ڈیجیٹل)پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ ملتان کے علاقے جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ شہریوں کے انخلا کے لیے ہیلی کاپٹر سمیت تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

جلالپور پیروالا میں مقامی بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں زیر آب آگئیں۔ مکین گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ موضع شاہ رسول اور بیٹ واہی کے زمیندارا بند بھی ٹوٹ گئے جس سے بہادر پور کے گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔ ضلعی انتظامیہ شہری بند کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ شجاع آباد اور جلالپور پیروالا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور شہر کو خالی کرنے کا حکم جاری کیا جا چکا ہے۔

ہیڈ پنجند پر دریائے چناب میں پانی کی آمد و اخراج 5 لاکھ 17 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جھنگ میں دریائے چناب کے دوسرے ریلے نے 300 سے زائد دیہات کو متاثر کیا ہے اور تقریباً 2 لاکھ 81 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ مظفرگڑھ میں سیلابی پانی نواحی علاقوں خانگڑھ، روہیلانوالی اور شہر سلطان تک پہنچ گیا جہاں ہزاروں ایکڑ پر آم کی فصل متاثر ہوئی ہے۔

بہاولپور میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، جو ناردرن بائی پاس کے قریب پہنچ کر بستیوں میں داخل ہو چکا ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ 9 ستمبر کو گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ اپنے عروج پر ہو گا، جس کے پیش نظر حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔ گڈو بیراج پر اس وقت درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 4 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری، کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

راجن پور میں دریائے سندھ کے کچے کے علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں تیزی کے باعث متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔

Scroll to Top