(کشمیر ڈیجیٹل)آج رات دنیا بھر کے کئی خطوں میں ایک منفرد فلکیاتی مظہر، ’بلڈ مون‘، دیکھا جا سکے گا۔ پاکستان میں بھی شائقین فلکیات یہ نایاب منظر دیکھ سکیں گے۔
بلڈ مون کیا ہے؟
بلڈ مون دراصل مکمل چاند گرہن (Total Lunar Eclipse) کا دوسرا نام ہے۔ اس دوران چاند زمین کے مکمل سائے میں چھپ جاتا ہے اور سورج کی روشنی براہِ راست اس تک نہیں پہنچ پاتی۔ زمین کے ماحول سے گزرنے والی شعاعیں چاند پر پڑتی ہیں اور وہ سرخی مائل یا تانبے کے رنگ میں دکھائی دینے لگتا ہے۔
یہ منظر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ فضا کتنی شفاف ہے۔ اگر فضا صاف ہو تو چاند ہلکی سرخی یا سنہری رنگت میں نظر آتا ہے، جبکہ آلودگی، دھول یا آتش فشانی ذرات کی موجودگی میں وہ گہرے سرخ یا بھورے رنگ کا ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں کب دیکھا جا سکے گا؟
- پاکستان میں یہ فلکیاتی مظہر اتوار کی شب 8 بجکر 28 منٹ پر شروع ہوگا، جب چاند زمین کے ہلکے سائے میں داخل ہوگا۔
- رات 9 بجکر 27 منٹ پر جزوی گرہن شروع ہوگا۔
- 10 بجکر 31 منٹ پر مکمل گرہن کا مرحلہ شروع ہوگا اور چاند سرخی مائل ہو جائے گا۔
- اس کا عروج 11 بجکر 12 منٹ پر ہوگا، جو 11 بجکر 53 منٹ تک جاری رہے گا۔
- مکمل اختتام رات 1 بجکر 55 منٹ پر ہوگا۔
دنیا کے کن حصوں میں نظر آئے گا؟
یہ بلڈ مون پاکستان کے ساتھ ساتھ ایشیا، آسٹریلیا، بحرالکاہل کے خطے اور شمالی و جنوبی امریکا کے کئی حصوں میں بھی دیکھا جا سکے گا۔
کتنی بار ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق بلڈ مون ہر چاند گرہن کے دوران نہیں بنتا، بلکہ صرف مکمل چاند گرہن کے وقت ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ منظر سال میں ایک یا دو بار ہی دیکھنے کو ملتا ہے، جبکہ بعض برسوں میں بالکل بھی نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: سدرک گربھائے کی کتاب ’’کشمیر ویٹ اینڈ سی‘‘ عالمی فیسٹیول میں پیش
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اس مظہر کا کوئی طبی یا جسمانی نقصان نہیں ہے۔ یہ خالصتاً ایک سائنسی اور فطری منظر ہے جس سے زمین کے ماحول اور کائناتی نظام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔




