فنانس ایکٹ مسترد،راولاکوٹ تاجرتنظیموں کا پروٹیکشن فورم کے قیام کااعلان

راولاکوٹ (کشمیر ڈیجیٹل) تاجر پروٹیکشن فورم کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا۔ جمعرات کے روز راولاکوٹ شہر کے مختلف تاجران سردار وسیم خورشید، شاہد اعظم خان، خواجہ عمران اشرف، نوید نسیم، بلال نواز، فرحان مشتاق، سردار نوید حیات، رضوان خادم و دیگر نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجران کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے گزشتہ ایک طویل عرصے سے آزادکشمیر بالخصوص راولاکوٹ کی صورتحال کاروباری طبقے کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برس سے تاجروں کے انتخابات نہیں ہوئے جس کے باعث شہر میں تاجروں کی کوئی منتخب نمائندہ یونین موجود نہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تاجر دوستوں کی مشاورت سے “تاجر پروٹیکشن فورم” تشکیل دیا گیا ہے۔

رہنماؤں نے واضح کیا کہ جیسے ہی تاجران کے انتخابات ہوں گے یہ فورم خود بخود تحلیل ہو جائے گا کیونکہ ان کا کوئی ذاتی یا گروہی مقصد نہیں۔ “ہم کسی کے مقاصد کی تکمیل کیلئے تاجران کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ تاجران باعزت ہیں اور انہیں عزت دی جائے۔” انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا غلط ہے کہ تاجر کسی کمیٹی کے خلاف ہیں۔ یہاں ذرا سی بھی کوئی حرکت ہو جائے تو فوری طور پر کہا جاتا ہیکہ یہ ہمارے خلاف ہے۔

ماضی میں تاجران نے ہمیشہ قومی مفاد کے احتجاجات اور تحریکوں میں حصہ لیا خواہ وہ پیپلز رائٹس فورم کا احتجاج ہو، نعیم بٹ شہید کا معاملہ ہو، بجلی اور آٹے کی تحریک ہو یا دیگر قومی معاملات، تاجران نے ہمیشہ لبیک کہا لیکن حالیہ دنوں تاجروں کو ایک دوسرے کو زیر کرنے کیلئے استعمال کیا گیا جو اب کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تاجران نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر کے جولائی میں منظور کیے گئے فنانس ایکٹ نے تاجروں کو بری طرح متاثر کیا جس کے خلاف ڈسٹری بیوٹرز عدالت کا رخ کریں گے۔ اسی طرح شہر کے مسائل مثلاً پارکنگ، نالیوں کی صفائی، اور ریٹس کا مسئلہ بھی براہ راست تاجران کو متاثر کر رہا ہے۔

انہوں نے نئی نسل کی تربیت اور اسلاف کو گالی دینے کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی بگاڑ تاجران سمیت سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو مسائل عدالت سے حل ہو سکتے ہیں وہ کسی صورت سڑکوں پر گالم گلوچ یا بدتہذیبی سے حل نہیں کیے جا سکتے۔

حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کو 29 ستمبر سے قبل حل کرے تاکہ انتشار کو روکا جا سکے۔ آخر میں تاجران نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ تاجران کے انتخابات کیلئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور جب تک کوئی منتخب نمائندہ باڈی وجود میں نہیں آتی کوئی بھی شخص یا گروہ تاجران کے نام پر سیاست نہیں کرے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:گجرات: 20 گھنٹوں میں 506 ملی میٹر بارش نے تباہی مچا دی،تمام تعلیمی وسرکاری ادارے بند

Scroll to Top