مظفر آباد:آزادکشمیر کشمیر ہائیکورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی عدم تعیناتی پر حکومت، وزیراعظم آزادکشمیر سے کل جمعۃ المبارک تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے ۔
آزادکشمیر ہائیکورٹ میں چیف الیکشن کمشنر تعیناتی نہ ہونے پر دائر رٹ پٹیشن پر جسٹس سردار اعجاز خان نے سماعت کی۔
پٹیشنر کی طرف سے سابق جج ہائیکورٹ راجہ سجاد خان ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت دانستہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں تاخیر کرکے آئینی خلاف ورزی کا ارتکاب کر چکی ہے ۔
چیف الیکشن کمشنر کا منصب خالی نہیں رہے سکتا لیکن گزشتہ سال سے یہ منصب خالی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی متنازعہ بن گئی، نئے انکشاف نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا
عدالت میں یہ اعتراض بھی اٹھا ہے کہ الیکشن کمیشن تشکیل کے تاحال ٹرمز اینڈ کنڈیشنز بنائے نہیں گئے ہیں جن کے بغیر الیکشن کمیشن کی تعیناتی نہیں ہو سکتی ہے ۔
گزشتہ سماعت میں عدالت نے حکومت کو حکم صادر کیا ہے کہ جمعہ کو جواب دعوہ جمع کرائے مزید سماعت سوموار کو ہوگی۔
یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنرکی تعیناتی سے متعلق وزیراعظم آزادکشمیر ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کرسکے ، گزشتہ دنوں پینل وزیراعظم پاکستان کو بھیجے جانے کی خبریں آئیں تھیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ کوئی پینل نہیں بھیجا گیا۔
کئی ماہ گزرنے کے باوجود وزیراعظم نے مشاورت کیلئے اپوزیشن لیڈر کو وقت دینے گوارہ نہیں کیا، اہم آئینی عہدہ خالی ہونے پر ضمنی بلدیاتی انتخابات بھی تاخیر کاشکارہیں۔
گزشتہ دنوں وزیراعظم آزادکشمیرکے قریب سمجھے جانے والے ایک صحافی نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ صداقت راجا کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کردیا گیا ہے لیکن وہ بھی جھوٹ ہی نکلا تھا۔




