ہائی کورٹ نے جہلم ویلی میں ڈی ایچ او کی 37 سے زائد تقرریاں معطل کر دیں

(کشمیر ڈیجیٹل) ہائی کورٹ آف آزاد کشمیر نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جہلم ویلی طاہر رحیم مغل کی جانب سے کی جانے والی 37 سے زائد تقرریوں کو معطل کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، خصوصاً جہلم ویلی میں، ڈی ایچ او طاہر رحیم مغل نے انٹرویوز مکمل ہونے سے پہلے ہی امیدواروں کو تقرریاں دے دیں جبکہ وہ قانونی طور پر اس طرح کے اقدامات کے مجاز نہیں تھے۔

سینئر قانون دان ثاقب عباسی کے مطابق 28 اور 29 اگست کو ڈی ایچ او نے ایک نئی سلیکشن کمیٹی تشکیل دی، لیکن انٹرویوز پہلے سے موجود کمیٹی نے کروائے۔ انٹرویوز 31 اگست تک جاری رہے، مگر نئی کمیٹی نے 30 اگست کو ہی میرٹ لسٹ مرتب کر کے بھرتیوں کا اعلان کر دیا۔ ان کے مطابق 26 سے 31 اگست کے دوران کمیٹی میں تبدیلی ممکن ہی نہیں، اسی قانونی سقم کی بنیاد پر یہ تقرریاں معطل کر دی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گریڈ 18 کا افسر ان آسامیوں پر خود سے تقرری نہیں کر سکتا۔ یہ اختیار گریڈ 19 کے افسر کے پاس ہوتا ہے اور اس کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی منظوری بھی لازمی ہے۔ لیکن اس کیس میں نہ تو کوئی باضابطہ آرڈر جاری ہوا اور نہ ہی امیدواروں کو شفاف طریقہ کار کے تحت دستاویزات دی گئیں۔ صرف زبانی طور پر کہا گیا کہ “آپ جوائن کر لیں”، جو شفافیت کے معیار کے برعکس ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈڈیال پولیس کا غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن،افغان شہری گرفتار

اہل امیدواروں نے اس عمل کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس پر عدالت نے میرٹ کی پامالی اور قانونی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر جہلم ویلی میں ہونے والی تمام 37 سے زائد تقرریوں کو معطل کر دیا۔

Scroll to Top