(کشمیر ڈیجیٹل) ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے جبکہ دریائے چناب سے آنے والا ریلا ہیڈ تریموں سے گزرنے کے بعد رات تک ملتان پہنچنے کا امکان ہے۔
ترجمان کے مطابق آئندہ 24 گھنٹے ہیڈ سنگنائی کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں، جہاں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس اضافے سے پیر محل اور خانیوال کے علاقے متاثر ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگلے چار گھنٹے ان دونوں علاقوں کے لیے خاص طور پر فیصلہ کن ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ آج شام ہیڈ محمد والا پر اونچے درجے کا سیلاب آئے گا جو بعد ازاں ملتان کو متاثر کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ہیڈ محمد والا کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید تشویشناک ہوئی تو اہم فیصلوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں 16 علاقے متاثر ہوسکتے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ملتان کی ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے جبکہ آئندہ چار سے چھ گھنٹے کو نہایت نازک قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بلوکی اور محمد والا بیراج پر بھی پانی کا بہاؤ مسلسل بلند ہے۔
ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق اب تک 32 سو دیہات اور 24 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متاثرین کو کھانے کی فراہمی جاری ہے جبکہ ریسکیو آپریشن اپنی نوعیت کا سب سے بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔ اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جن میں سرکاری اور نجی ادارے یکساں طور پر شامل ہیں۔
ادھر لاہور کے نشیبی علاقے بھی زیر آب ہیں جہاں سے پانی نکالنے کا کام جاری ہے۔




