اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے فوری طور پر میڈیکل ٹیمیں روانہ کرنے کا اعلان کردیا۔
پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےعلی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ وہ خود پشاور جا رہے ہیں تاکہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کریں اور جس نوعیت کی بھی مدد درکار ہوئی، صوبائی حکومت پیش پیش ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے افغان عوام سے اپنے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے لوگ ہمارے بھائی ہیں اور ہم ہر حال میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
افغان مہاجرین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ انہیں واپس بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ پہلے ہی اس بات کا مطالبہ کر چکے ہیں کہ افغان مہاجرین کو کم از کم چھ ماہ کا مزید وقت دیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ افغان مہاجرین سے متعلق پالیسی وفاقی حکومت کی ہے تاہم خیبر پختونخوا میں اس حوالے سے کسی قسم کی زبردستی نہیں کی جا رہی۔ صوبے میں پولیس افغان مہاجرین کے خلاف کوئی چھاپے نہیں مار رہی اور نہ ہی انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔
عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ملک میں قانون کی عدم موجودگی ہے،جب ملک میں قانون بحال ہوگا تو بانی چیئرمین کو بھی انصاف ملے گا اور وہ رہا ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین کا اسٹیبلشمنٹ سے معاملہ چل رہا ہےاور ان معاملات کو عمران خان نے خود ہی حل کرنا ہے، ان کے پاس اس حوالے سے کوئی اختیار نہیں۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم اپنے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں اور اسے نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے وفاقی وزیر خواجہ آصف پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کل کو یہ نہ ہو کہ خواجہ آصف یہ بھی کہہ دیں کہ وہ جو ٹیڑھا چل رہے ہیں اس کا ذمہ دار بھی عمران خان ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب بھی ہمارا صوبہ ہے اور وہاں کے عوام ہمارے بھائی ہیں۔ اگر پنجاب میں کسی بھی وقت مدد کی ضرورت پیش آئی تو خیبر پختونخوا حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں، 600 سے زائد افراد جاں بحق، ایک ہزار زخمی




