(کشمیر چینل) آزادکشمیر کے وزراء کو چین میں ہونے والی B2B (بزنس ٹو بزنس) کانفرنس میں بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم یہ سوال سامنے آیا ہے کہ کیا ان وزراء کو حقیقتاً معلوم بھی ہے کہ B2B ہے کیا۔
یہ کانفرنس دراصل بزنس کمیونٹی، سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کے لیے منعقد کی جاتی ہے جہاں سرمایہ کاری، تجارتی معاہدوں اور صنعتی ترقی پر گفتگو ہوتی ہے۔ لیکن آزادکشمیر میں معاملہ اس کے برعکس نظر آ رہا ہے، بزنس کمیونٹی کی جگہ وزراء کو بھیجنے کی تیاری ہے جس کا نتیجہ مبصرین کے مطابق فوٹو سیشن اور سیاحت سے زیادہ کچھ نہیں نکلے گا۔
طنزیہ طور پر یہ بات بھی زبان زدِ عام ہے کہ آزادکشمیر کی اصل “برانڈنگ” مظفرآبادی کلچہ ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر نمائندگی کرنی ہی تھی تو کسی کلچہ فروش کو بھیج دینا زیادہ مناسب تھا کیونکہ وزراء کے پاس نہ تو کوئی واضح بزنس پلان ہے اور نہ ہی سرمایہ کاری کے لیے کوئی روڈ میپ۔
یہ بھی پڑھیں: پلوامہ میں بھارتی فوج نے کشمیری شہری کا مکان ضبط کر لیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سنجیدہ معاشی پالیسی ترتیب نہیں دی جاتی اور بزنس کمیونٹی کو نمائندگی نہیں دی جاتی، تب تک چاہے B2B ہو یا G2G، نتیجہ وہی رہے گا:
“کلچے وہیں کے وہیں رہیں گے۔”




