اسلام آباد: پاکستان کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی بینک نے ایک بڑا مالیاتی پیکیج منظور کرلیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو 20 ارب ڈالر کا رعایتی قرضہ فراہم کیا جائے گا جس پر محض 2 فیصد سود لاگو ہوگا جبکہ اس کی مدت 10 برس ہوگی ۔ یہ اقدام پاکستان کے لیے جاری دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حصہ ہے ۔
مجموعی فنڈنگ کا حجم 40 ارب ڈالر تک:
اس پیکیج کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے لیے بھی مزید 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے جو عالمی بینک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ یوں مجموعی طور پر پاکستان کو عالمی بینک گروپ کی جانب سے حاصل ہونے والی فنڈنگ کا حجم تقریباً 40 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا ۔
چھ ترجیحی شعبے شامل:
عالمی بینک کے اعلامیے کے مطابق اس قرضے اور فنڈنگ کا مقصد پاکستان میں پائیدار ترقی اور سماجی فلاح کے منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے۔ اس نئے مالیاتی پیکیج میں چھ ترجیحی شعبے شامل ہیں:1۔ ماحولیاتی تحفظ تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔2۔غربت میں کمی اور کمزور طبقات کی بہتری۔3۔صحت و تعلیم کے نظام میں اصلاحات اور معیار بلند کرنا۔4۔بچوں کی نشوونما اور غذائی قلت پر قابو پانا۔5شمولیتی ترقی تاکہ ہر طبقہ ترقی کے مواقع سے مستفید ہو سکے۔6صاف توانائی اور فضائی معیار میں بہتری کے اقدامات۔
مزید برآں، نجی سرمایہ کاری کے فروغ کو بھی پیکیج کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے تاکہ ملکی معیشت کو زیادہ متحرک اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں ۔
قرض کی نوعیت:
پاکستان کو یہ رعایتی قرضے آئی ڈی اے (انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن) کے ذریعے فراہم ہوں گے۔ اس حوالے سے قومی نفاذ کا منصوبہ تیاری کے آخری مراحل میں ہے جس کے بعد فنڈز کا اجراء مرحلہ وار ہوگا ۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی امداد:
واضح رہے کہ اس سے قبل دو روز پہلے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے صدر ماساٹو کانڈا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 3 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا تھا۔ یہ امداد ایشیا پیسفک ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ سے فراہم کی جا رہی ہے، جو حکومت پاکستان کی خصوصی درخواست پر دی جا رہی ہے ۔
نتیجہ کیا نکلے گا:
عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے یہ اقدامات پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے، قدرتی آفات کے اثرات کم کرنے اور سماجی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان رقوم کو شفافیت اور منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا گیا تو یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔




