پونچھ (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ برسات کے بعد آشوبِ چشم (Conjunctivitis) کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی ہے، جس سے درجنوں شہری متاثر ہو چکے ہیں۔ متاثرین میں آنکھوں میں جلن، پانی آنا اور سوجن جیسی علامات عام دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور شہریوں کو چاہیے کہ اس مرض کو معمولی نہ سمجھیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت کو چاہیے کہ عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگوں کو بروقت پتا چل سکے کہ آشوب چشم سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔
ماہرین کی وضاحت:
ماہرین امراض چشم کے مطابق آشوب چشم ایک متعدی مرض ہے جو زیادہ تر وائرس یا بیکٹیریا سے پھیلتا ہے، جبکہ آلودگی اور الرجی بھی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ یہ بیماری بظاہر خطرناک نہیں ہوتی مگر اگر احتیاط نہ کی جائے تو تکلیف بڑھ سکتی ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق آشوب چشم کی عام علامات درج ذیل ہیں:
آنکھوں کی لالی اور مسلسل پانی آنا،جلن، خارش اور چبھن،روشنی میں حساسیت بڑھ جانا،آنکھوں سے گاڑھا یا پتلا مادہ (Discharge) نکلنا،نظر میں دھندلا پن یا عارضی کمی
ڈاکٹرز کی ایڈوائس اور احتیاطی تدابیر:
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ شہری درج ذیل احتیاط کریں تاکہ مرض نہ بڑھے اور دوسروں کو نہ لگے:
آنکھوں کو بار بار رگڑنے سے گریز کریں،ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھوئیں،مریض کے تولیے، تکیے اور ذاتی اشیاء استعمال نہ کریں،ازخود دوا یا آئی ڈراپس استعمال کرنے سے پرہیز کریں،فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں
بچوں اور بزرگوں میں خاص طور پر احتیاط کریں کیونکہ یہ زیادہ تیزی سے متاثر ہوتے ہیں
علاج کی اقسام:
وائرل آشوب چشم: عام طور پر 7 سے 14 دن میں خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔
بیکٹیریل آشوب چشم: اینٹی بائیوٹک آئی ڈراپس یا مرہم سے علاج کیا جاتا ہے۔
الرجی کی وجہ سے آشوب چشم: اینٹی الرجک ادویات یا آئی ڈراپس مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق متاثرہ افراد علاج مکمل ہونے کے بعد اپنے پرانے لینسز، آئی میک اپ یا استعمال شدہ آئی ڈراپس دوبارہ استعمال نہ کریں تاکہ مرض دوبارہ نہ پھیلے۔
یہ بھی پڑھیں: بی وائی ڈی سانگ پلس پر تین بار آسمانی بجلی گری، ڈرائیور اور گاڑی محفوظ رہے
یہ مرض اگرچہ خطرناک نہیں لیکن چونکہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اس لیے احتیاطی تدابیر اپنانا نہایت ضروری ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ اپنی آنکھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور بروقت ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ بیماری مزید نہ بڑھے اور دوسروں تک منتقل نہ ہو۔




