بی وائی ڈی سانگ پلس پر تین بار آسمانی بجلی گری، ڈرائیور اور گاڑی محفوظ رہے

(کشمیر ڈیجیٹل) جدید انجینئرنگ کی ایک حیران کن مثال اُس وقت سامنے آئی جب چین کی برقی گاڑی بی وائی ڈی سانگ پلس (BYD Song Plus) ایک ہی طوفان میں لگاتار تین بار آسمانی بجلی گرنے کے باوجود ڈرائیور کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے میں کامیاب رہی۔

برقی گاڑی بی وائی ڈی سانگ پلس کا یہ واقعہ چین کے صوبے گوانگشی کے بیہائی شہر کے ٹائیشان سروس ایریا میں پیش آیا، جہاں قریبی ڈیش کیمروں نے اس ڈرامائی منظر کو ریکارڈ کیا۔ حیرت انگیز طور پر گاڑی کے بیٹری پیک، الیکٹرک کنٹرول یونٹ اور موٹر سمیت تمام اہم پرزے سلامت رہے۔

فیرادے کیج ایفیکٹ کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک سائنسی اصول “فیرادے کیج ایفیکٹ” کی عملی تصویر ہے۔ اس اصول کے تحت جب بجلی کسی گاڑی پر گرتی ہے تو اس کا دھاتی ڈھانچہ کرنٹ کو باہر کی سطح سے گزارتے ہوئے زمین میں منتقل کر دیتا ہے۔ اس طرح برقی رو گاڑی کے اندر داخل نہیں ہوتی اور مسافر محفوظ رہتے ہیں۔ یہ اصول 19ویں صدی کے سائنس دان مائیکل فیرادے کے نام سے منسوب ہے اور آج کی جدید گاڑیوں کے حفاظتی ڈیزائن میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

ڈرائیور کو کیا کرنا چاہئے؟

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر ڈرائیور کسی طوفان میں پھنس جائیں تو چند حفاظتی اقدامات اختیار کریں:

  • انجن اور دیگر برقی نظام جیسے آڈیو یونٹ اور ریڈیو بند کر دیں۔
  • اینٹینا اندر کر لیں اور کھڑکیاں مکمل بند رکھیں۔
  • بجلی گرنے کے فوراً بعد گاڑی سے باہر نہ نکلیں، جب تک آگ جیسا کوئی فوری خطرہ نہ ہو۔
  • آخری کڑک کے کم از کم 30 منٹ بعد گاڑی سے باہر نکلیں۔

بی وائی ڈی سانگ پلس کے ڈرائیور نے بھی انہی ہدایات پر عمل کیا اور گاڑی کے اندر ہی رہے، جس کے باعث وہ بالکل محفوظ رہے۔

بی وائی ڈی سانگ پلس کی شہرت اور مضبوطی:

بی وائی ڈی سانگ پلس چین کی سب سے نمایاں برقی گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر بھی اپنی پہچان بنا رہی ہے۔ اس واقعے نے گاڑی کی مضبوطی اور جدید ڈیزائن کو مزید اجاگر کیا ہے کیونکہ تین بار آسمانی بجلی گرنے کے باوجود بیٹری اور پاور ٹرین کے دیگر اہم حصے محفوظ رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی کارکردگی نہ صرف صارفین کے اعتماد میں اضافہ کرے گی بلکہ برقی گاڑیوں کی مارکیٹ میں اس ماڈل کو مزید مقبول بنائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بھارت کے پانی چھوڑنے سے سیلاب، سات اضلاع میں فوج طلب کر لی گئی

یہ واقعہ عام صارفین کے لیے ایک سبق ہے کہ مشکل حالات میں پرسکون رہتے ہوئے حفاظتی اصولوں پر عمل کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ گاڑی بنانے والی کمپنیوں کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ وہ شدید موسمی حالات کے مطابق اپنی گاڑیوں کے ڈیزائن اور حفاظت کو مزید بہتر بنائیں۔ ماہرین کے مطابق بدلتے موسم اور بڑھتے طوفانوں کے پیش نظر مستقبل میں گاڑیوں کی یہ حفاظتی خصوصیات اور بھی اہمیت اختیار کر جائیں گی۔

Scroll to Top