ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)جہلم ویلی کے علاقہ لمنیاں میں مبینہ طور پرغلط انجکشن لگنے سے 14 سال کی بچی زندگی کی بازی ہار گئی ۔ واقعہ پر کارروائی کے دوران ڈرگ انسپکٹر پر میڈیکل اسٹور کے مالک اور اس کے بھائی نے حملہ کر دیا ۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر/ڈسٹرکٹ ڈرگ انسپکٹر جہلم ویلی راجہ شعیب حسین نے سٹی تھانہ ہٹیاں بالا میں درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جی اسٹار میڈیکل اسٹور لمنیاں کے مالک خضر حیات عباسی نے غیر قانونی طور پر بچی لائبہ دختر رحمت دین کو انجکشن لگایا جس کے باعث وہ جاں بحق ہوگئی ۔
متوفیہ کے والد نے اس پر محکمہ صحت سے کارروائی کی درخواست دی تھی۔ڈرگ انسپکٹر کے مطابق جب اسٹور کی چیکنگ کی گئی تو کوالیفائیڈ پرسن کی بجائے نان کوالیفائیڈ شخص خضر حیات عباسی خواتین کو انجکشن لگا رہا تھا ۔
جانچ پڑتال پر وہ مشتعل ہوگیا اور اس کا بھائی غضنفر عباسی بھی زبردستی اندر گھس آیا، گالم گلوچ کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ اسٹور سے غیر قانونی ڈرپس اور سرنجز بھی برآمد ہوئیں۔ایس ایچ او تھانہ سٹی ہٹیاں بالا منظر حسین چغتائی نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں پہلی بار قومی سطح پر سروائیکل کینسر ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا گیا
علاوہ ازیں ڈرگ انسپکٹر نے افتخار احمد چک کے میڈیکل اسٹور کو بھی محکمہ صحت کی ایڈوائزری کے برعکس ادویات فروخت کرنے اور ٹمپریچر کنٹرول نہ ہونے پر سیل کر دیا۔عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ معصوم بچی کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کروایا جائے ۔
ان کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقوں میں اکثر میڈیکل اسٹور نان کوالیفائیڈ افراد چلاتے ہیں، ایسے اسٹورز کو ہمیشہ کے لیے سیل اور ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کا سلسلہ ختم ہو سکے ۔




