نیلہ بٹ (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم و صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ مہاجرین ریاست جموں و کشمیر کے نظریاتی اور قانونی وارث ہیں، ان کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ وہ نیلہ بٹ میں مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام 78ویں سالانہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔
مقررین نے اپنے خطابات میں واضح کیا کہ مہاجرین جموں و کشمیر ریاست کا لازمی حصہ ہیں اور ان کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔ رہنماؤں نے کہا کہ آزاد کشمیر پاکستان کا دفاعی حصار ہے ، اسے غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی ۔
سابق وزیر اعظم و صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ نے کہا کہ مہاجرین نے مشکلات کے باوجود پاکستانیت سے منہ نہیں موڑا، ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کا موجودہ اسٹیٹس پاکستان کے مفاد میں ہے، اس میں کوئی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جائے گی۔
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین غلام محمد صفی نے کہا کہ تحریک آزادی لاکھوں جانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ہمارے اسلاف کی منزل پورے جموں و کشمیر کی آزادی اور پاکستان سے الحاق تھی ۔
یہ بھی پڑھیں:انوارالحق پر وفاقی حکومت کا دبائو کام کرگیا،اڑھائی سال بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تشکیل،سردار عتیق چیئرمین نامزد
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے کہا کہ نیلہ بٹ کا مقام جدوجہد آزادی کی علامت ہے ۔ پاکستان ہمارا محافظ ہے، اگر پاکستان نہ ہوتا تو کشمیر کا حال فلسطین جیسا ہوتا ۔
وزیر زراعت سردار میر اکبر خان اور وزیر تعلیم دیوان علی خان چغتائی نے کہا کہ نیلہ بٹ سے چلنے والی تحریک نے کشمیری عوام کو آزادی کی فضاء بخشی۔ تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ ہے اور اس میں شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔
تقریب میں منظور ہونے والی قراردادوں میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کی مذمت، افواج پاکستان کو خراج تحسین ، چین کی حمایت پر شکریہ اور سی پیک کو کشمیر تک بڑھانے کا مطالبہ شامل تھا۔ آخر میں شہداء کشمیر کے درجات کی بلندی، پاکستان کی سلامتی اور فلسطین و غزہ کے مسلمانوں کی آزادی کیلئےخصوصی دعا کی گئی ۔




