چناری ، بااثرافراد کی ظلم کی انتہا، 13 سالہ بچے پر بہمانہ تشدد، بازو تین جگہ سے توڑ ڈالا

ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)چناری کے نواحی گاؤں سربن میں بااثر افراد نے اپنی من مانی سے عدالت قائم کرتے ہوئے 13 سالہ بچے پر بہیمانہ تشدد کر کے اس کے بازو کو تین جگہ سے توڑ ڈالا،عوام میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق سربن کے رہائشی چوہدری سلیمان کے بیٹے فیضان سلیمان کو گزشتہ روز اُس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی حدود میں آڑو کے درخت سے پھل توڑ رہا تھا، اسی دوران بااثر افراد راجہ محمد عاشق، راجہ نصیر اور ان کے بیٹوں نے گھر پر دھاوا بول کر کمسن بچے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بچے کا بازو تین مختلف حصوں سے ٹوٹ گیا ۔۔

ذرائع کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث سلیمان کی زمین سے سلائیڈ نیچے آئی تھی جس پر بھی راجہ عاشق اور راجہ ناصر شدید برہم ہو گئے اور مسلسل گالم گلوچ کرتے رہے۔۔

دونوں خاندانوں کے درمیان زمین کا تنازعہ طویل عرصہ سے عدالت میں زیر سماعت ہےتاہم اس کے باوجود انھوں نے قانون کو ہاتھ میں لے کر دھمکیاں دیں کہ ان کی زمین میں کوئی دوسرا مداخلت نہیں کر سکتا، ورنہ اپنی ذاتی زمینوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے،

بااثر افراد نے چوہدری سلیمان کے خاندان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں،زخمی بچے کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بازو کے تین جگہ سے ٹوٹنے کی تصدیق کردی۔

متاثرہ بچے کے ورثاء کا کہنا ہے ہم غریب لوگ ہیں، ہمیں آئے روز دھمکیاں دے کر زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، آج ہمارے بچے کا بازو تین جگہ سے توڑدیا ،

کل خدا جانے کیا ہوگا، ہمیں فوری انصاف فراہم کیا جائے،علاقے کے عوامی و سماجی حلقوں نے بھی اس واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام بالا سے فوری نوٹس لینے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیرحکومت سردار فہیم اختر ربانی کے سکیورٹی گارڈز اور شہریوں کے درمیان تصادم ،فائرنگ، تشدد سے شہری زخمی

Scroll to Top