انورادھا

کشمیر میں کتابوں پر پابندی : انورادھا بھسین نے مودی سرکار پر سوال اٹھا دیا

سری نگر (کشمیر ڈیجیٹل) کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر اور مودی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر پر پابندی عائد کردہ 25 کتابوں میں سے ایک کی مصنفہ انورادھا بھسین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں علم، اسکالرشپ اور آزادی اظہار کو اس کے طویل مدتی نقصان کی تنبیہ کرتے ہوئے اس اقدام کے پیچھے محرکات، عمل اور شواہد پر سوال اٹھایا ہے ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھسین جن کی کتاب ’’اے ڈسمانٹلڈ اسٹیٹ: دی ان ٹولڈ سٹوری آف کشمیر آفٹر 370 ‘‘ ممنوعہ عنوانات میں شامل ہے، نے لکھا کہ کشمیر انتظامیہ نے ممنوعہ کاموں کو تشدد یا دہشت گردی سے جوڑنے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس نے کسی خاص قابل اعتراض حوالے کی نشاندہی کی ہے ۔

انہوںنے قیاس کیا کہ آیا حکام نے بھارتی شہری تحفظ سنہتا کے سیکشن 98 کے تحت کتابوں کو’’علیحدگی پسند ادب ‘‘کے طور پر برانڈ کرنے سے پہلے واقعی پڑھا تھا، یا یہ فیصلہ سیاسی مقاصد کے تحت چلنے والی بیوروکریٹک مشق تھی ۔

ا نورادھا بھسین نے کہا کہ پابندی رٹیکل 370 کی منسوخی کی چھٹی سالگرہ اور سری نگر میں حکومت کے زیر انتظام کتاب میلے کے دوران عائد کی گئی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ’’امن اور ترقی ‘‘کے اس کے دعووں کو چیلنج کرنے والے بیانیے کے لیے نئی دہلی کی عدم برداشت کی عکاسی کرتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کا نیا حربہ، انورادھا بھسین، اورندھتی رائے، اے جی نورانی سمیت نامور مصنفین کی 25کتابوں پر پابندی عائدکردی

اس نے اسے ایک وسیع تر آمرانہ پابندی کے حصے کے طور پر بیان کیا جس نے پہلے ہی صحافیوں کو خاموش کر دیا ہے، میڈیا آرکائیوز کو مٹا دیا ہے، اور خوف کی فضا کو نافذ کرنے کی کوشش کی ہے ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پابندیاں نوجوان قارئین اور محققین کو تنقیدی تاریخی اور سیاسی مواد سے محروم کر دیں گی، کشمیر پر اسکالرشپ کو روکیں گی اور پبلشرز کو اس موضوع پر کام چھاپنے سے روکیں گی ۔

بھسین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پابندی کے تناظر میں کتابوں کی دکانوں پر چھاپے درج کردہ عنوانات سے آگے کریک ڈاؤن کو بڑھا سکتے ہیں، عوام کو مزید پریشان کر سکتے ہیں اور فکری آزادی کو روک سکتے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ سنسر شپ کے باوجود، ممنوعہ کتابوں کی مانگ میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اقدام الٹا فائر ہو سکتا ہے ۔

انورادھا بھسین نے لکھنا جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خیالات کو دبانے کی کوشش نے کشمیر کے بارے میں سچ بولنے اور دستاویز کرنے کی ضرورت کو مزید تقویت دی ہے ۔

Scroll to Top