برف پوش پہاڑوں اور قدرتی حسن سے بھرپور وادی نیلم کے بلند و بالا مقام کیل میں قائم ایک منفرد ہنڈی کرافٹ شاپ، کشمیری ثقافت اور ہنر کا حسین امتزاج بن چکی ہے۔
ہنڈی کرافٹ شاپ صرف دستکاری کا مرکز نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثے کی نمائش گاہ ہے جہاں ماضی کی روایات اور ہنر کا عکس ایک جگہ جمع ہو گیا ہے۔
ہاتھ کی لکھی خوبصورتی ، لکڑی پر روحانی فن:
اس شاپ کی سب سے نمایاں خصوصیت آخروٹ (اخروٹ) کی لکڑی ہے، جو صرف کشمیری خطے میں پائی جاتی ہے۔ اس لکڑی پر ہاتھ سے انتہائی مہارت سے قرآنی آیات کندہ کی جاتی ہیں۔ ہر لکڑی کا ٹکڑا صرف ایک ہنر نہیں، بلکہ عقیدت، لگن اور ثقافت کا عکاس ہے۔ ان میں سے کئی فن پارے ٹیسیو پیپر باکس، الماریاں، اور دیواروں پر سجانے والے فریم کی شکل میں تیار کیے جاتے ہیں۔
دیسی لباس کی جھلک ، گرم بھی، خوبصورت بھی:
کیل میں دستیاب کشمیری روایتی لباس بھی اس شاپ کی خاص پہچان ہے۔ تصویر میں نظر آنے والا یہ روایتی “فیرن” (Pheran) کشمیری خواتین کا مخصوص لباس ہے جو سردیوں میں گرم رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی دلکش کشیدہ کاری کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ فیرن مخصوص کشمیری نقش و نگار سے مزین ہوتا ہے، جس پر ہاتھ سے رنگ برنگے دھاگوں سے کڑھائی کی جاتی ہے۔
صرف ایک دکان، بھر پورکلچر:
یہ دکان کیل میں اپنی نوعیت کی واحد شاپ ہے جو چھوٹے پیمانے کی انڈسٹری کے طور پر کام کر رہی ہے۔ یہاں ہر چیز مقامی کاریگروں کے ہاتھوں سے تیار کی گئی ہے اور اس کا بنیادی مقصد صرف سیاحوں کو اشیاء فروخت کرنا نہیں، بلکہ آزاد کشمیر کی ثقافت کو زندہ رکھنا اور اسے نسل در نسل منتقل کرنا ہے۔
سیاحوں کا مرکز، مقامی لوگوں کا فخر:
یہ شاپ وادی آنے والے سیاحوں کے لیے بھی کشش کا باعث بن چکی ہے، جہاں وہ نہ صرف منفرد اشیاء خرید سکتے ہیں بلکہ کشمیری طرزِ زندگی، ثقافت، اور روحانی فن کا بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایسے مراکز کو باقاعدہ سپورٹ دے تو نیلم جیسے علاقے نہ صرف سیاحت بلکہ ہنر و ثقافت کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کی وزیراعظم سے ملاقات، گارڈ آف آنر پیش اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے




