گلگت : تاریخ میں پہلی بار مٹی اور کیچڑ کا سیلاب، مکانات سینکڑوں کنال اراضی تباہ،10 افراد جاں بحق

گلگت (کشمیر ڈیجیٹل)گلگت کے علاقے جوتل میں بارش کے بعد مٹی اور کیچڑ کا سیلاب آگیا جس کے نتیجے میں مکانات مکمل تباہ ہوگئے، سیکڑوں کنال زرعی اراضی کو نقصان پہنچا۔،

باغات سمیت فصلیں بھی سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ سیلابی صورت نے نظام زندگی درہم برہم کردیا۔ تربیلا، کالاباغ ، چشمہ، گڈو اور سکھر بیراج پر بھی سیلابی صورت حال ہے،

دوسری جانب گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ گلبر خان نے پریس کانفرنس سے خطاب میں حالیہ سیلابی تباہ کاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ سیلابی ریلوں سے 10 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے جبکہ سات اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق، قدرتی آفت سے تقریباً 20 ارب روپے کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور صوبائی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ان نقصانات کا ازالہ خود کر سکے۔

انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے گلگت بلتستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ وفاقی حکومت کو انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 7 ارب روپے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ انہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں پر وزیراعظم اور آرمی چیف کو خط بھی لکھا ہے تاکہ بروقت امداد اور بحالی ممکن ہو سکے۔

سماہنی، خیبر پختونخوا کا نوجوان نہاتے ہوئے نالے میں ڈوب کر جاں بحق

Scroll to Top