مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) عدالتِ عظمیٰ آزاد کشمیر کا بڑا فیصلہ ،ڈسٹرکٹ و سیشن جج راجہ امتیاز احمد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
سابق ڈسٹرکٹ ویشن بنج راجہ امتیاز احمد کی سرکاری خدمات کا اختتام پذیر ۔ آزاد جموں و کشمیر سول سروس قواعد کے تحت راجہ امتیاز احمد کو “Removal from Service کی سزا سنادی۔
عدالتِ عالیہ و عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں راجہ امتیاز احمد کو فوری برطرفی کی منظوری دے دی گئی ۔ بد عنوانی اور ماضی کی سزاؤں کو مدِنظر رکھتے ہوئے عدالت نے راجہ امتیاز کو ناقابلِ معافی قرار دیاگیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ سرکاری ذمہ داریوں میں کوتاہی پرکسی کو بھی کوئی رعایت نہیں دی جاسکتی۔ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزی پر راجہ امتیاز احمد کو سول سروس سے نکال دیا گیا۔
راجہ امتیاز احمد کے خلاف ماضی میں بھی مختلف نوعیت کی شکایات اور سزائیں ریکارڈ پر موجود تھیں۔ عدالت نے ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ناقابلِ معافی قرار دیا اور قرار دیا کہ ایسی بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سرکاری ذمہ داریوں میں کوتاہی اور ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزی پر کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی، خواہ وہ کتنا ہی اعلیٰ عہدے پر کیوں نہ ہو۔
اس فیصلے کے بعد راجہ امتیاز احمد کی سرکاری خدمات کا باضابطہ طور پر اختتام ہو گیا ہے، اور انہیں فوری طور پر ملازمت سے سبکدوش کردیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ چند دن قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ امتیار احمد کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور وقار کو مجروح کرنے پر 3 دن قید کی سزا سنائی کر سزا سنائی گئی تھی، انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے ریماکس دیے کہ جج راجہ امتیاز احمد نے منشیات کے مجرم کو خلاف قانون بری کیا۔
جج نے سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف 16 فروری 2023 کو ملزم کو بری کیا۔
عدالتی فیصلے میرٹ پر ہوں گے، کلرکس کی بدعنوانی برداشت نہیں:چیف جسٹس آزادکشمیر




