لندن :برطانیہ نے 14 سال کے عرصے کے بعد شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔
یہ اعلان برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اپنے حالیہ دورہ شام کے دوران کیا ۔ وہ 2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر ہیں ۔
برطانوی وزیر خارجہ نے دمشق میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ شام کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں سنجیدہ ہے اور یہ قدم خطے میں استحکام اور برطانیہ کے قومی مفادات کے لیے ضروری ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ و کشمیر میں مظالم، اقوام متحدہ بھارت و اسرائیل کو جوابدہ بنائے: ماہرین کا مطالبہ
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں ایک محفوظ ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی برادری کوفوری طور پر کردار ادا کرنا ہوگا ۔
برطانیہ نے شام میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے 94 ملین پاؤنڈ امداد دینے کا بھی وعدہ بھی کیا ہے ، جس کے ذریعے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات ، صحت، خوراک اور تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی ۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ڈپٹی آرمی چیف نے پاکستان کی عسکری برتری ، اپنی شکست کا اعتراف کر لیا
واضح رہے کہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے بعد برطانیہ نے شامی حکومت سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی اپنائی تھی ۔
تاہم خطے میں بدلتے ہوئے حالات اور دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کے پیش نظر برطانیہ نے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے تعلقات کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: لیبرپارٹی کو جھٹکا، پاکستانی نژاد زہرا سلطانہ حکمران پارٹی سے مستعفی،نئی جماعت بنانے کا اعلان




