سپیکر قانون سازاسمبلی آزادکشمیر ، سینئر سیاستدان چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ آزادکشمیر حکومت نے بروقت فیصلے نہیں کئے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے اور سیاسی پارٹیوں نے عوامی رابطہ مہم ختم کی جس پر ایکشن کمیٹی کو سپیس ملی
کشمیر ڈیجیٹل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ آزادکشمیر میں جب بھی پیپلزپارٹی کی حکومت بنی ،تعمیر وترقی کا ریکارڈ قائم ہوا، پیپلزپارٹی نے فنڈز کی کمی کے باوجود 3 میڈیکل کالجز،ویمن یونیورسٹی سمیت5 جامعات قائم کیں، سکولز وکالجز کا جال بچھایا
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے وقت پرفیصلے نہیں کئے، افسران کو کام نہیں کرنے دیاگیا نہ وزراء کو اختیارات ملے، ہم ایک بیلدار اور قلی بھی بھرتی نہیں کرسکے۔
سپیکراسمبلی نے کہا کہ سنا ہے اب وزیراعظم نے وزراء کو اختیارات واپس دیئے ہیں لیکن اب تاخیر ہوچکی ہے۔ حکومت کو بیوروکریسی کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی پارٹیوں کی قیادت نے عوام رابطہ مہم ختم کردی ہے جس کی وجہ سے ایکشن کمیٹی کو سپیس ملی،ہم نے اتحادی حکومت سے نکلنے کا فیصلہ مرکزی قیادت کی مشاورت سے ہی کرنا ہے،مسئلہ کشمیر پر حکمت عملی طے کرنے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آزادکشمیراور حکومت پاکستان موسمیاتی تبدیلی پر توجہ دینا ہوگی ورنہ آنے والے وقت میں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑیگا۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے لوگوں کو اپنی پارٹی بنا لینی چاہیے، مجھے ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو تحریک آزادی کشمیر اور عوامی مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے کردار ادا کرسکتا ہوں
سپیکر آزادکشمیر اسمبلی نے کہا کہ کشمیر ڈیجیٹل میڈیا معتبر ادارہ ہے جو کشمیر کے ایشو کو دنیا تک پہنچاتا ہے اور عوامی مسائل بھی اجاگر کررہا ہے جس پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔




