ایمزمظفرآبادمیں عملے کی غفلت کے باعث ایچ آئی وی کیسز میں خطرناک اضافہ

مظفرآباد:آزادکشمیر کے دارالحکومت کے بڑےہسپتال عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں طبی غفلت اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث ایچ آئی وی کیسز میں خطرناک اضافہ ہوگیا۔

آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد ڈویژن میں گزشتہ دس روز کے دوران ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق تقریباً 60 افراد میں HIV وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب دارالحکومت کے بڑے ہسپتال عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال میں ڈائیلاسز کے کچھ مریضوں کے معمول کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں چار مریضوں کے HIV ٹیسٹ مثبت آئے۔

یہ بھی پڑھیں: ایچ آئی وی کے علا ج میں اہم پیشرفت، ڈاکٹروں کو بڑی کامیابی مل گئی

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ہسپتال میں ڈائیلاسز مشینوں کی صفائی میں سنگین غفلت برتی گئی، جس کے نتیجے میں وائرس دیگر مریضوں میں منتقل ہوا۔

ذرائع کے مطابق، میڈیکل ویسٹ (ہسپتال کا فضلہ) مناسب طریقے سے تلف نہیں کیا جا رہا اور کھلے عام نالیوں اور دریاؤں کے قریب پھینکا جا رہا ہے۔

یہ ویسٹ اکثر کچرا چننے والے بچوں کے ہاتھ لگتا ہے، جو حفاظتی اقدامات کے بغیر کام کرتے ہیں اور وائرس کی زد میں آ جاتے ہیں۔اس کے علاوہ، شہر میں کھلے عام کام کرنے والی بابر شاپس بھی وائرس کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ قرار دی جا رہی ہیں، جہاں استرے اور دیگر آلات جراثیم سے پاک کیے بغیر استعمال کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد : نیلم اور ہٹیاں بالا میں ایڈز کے درجنوں کیس رپورٹ ہونے کا انکشاف

ماہرین صحت نے اس صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ:ہسپتالوں میں صفائی کے سخت ایس او پیز نافذ کیے جائیں۔

ڈائیلاسز مراکز کی فوری انکوائری کی جائے۔میڈیکل ویسٹ کی محفوظ تلفی کو یقینی بنایا جائے۔بابر شاپس کے لیے صفائی کے اصول لاگو کیے جائیں۔

عوامی سطح پر بھی HIV سے متعلق آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہری اس وائرس سے بچاؤ کے طریقوں سے باخبر ہو سکیں۔

Scroll to Top