محکمہ صحت حکام کی اقرباءپروری ، میرٹ کی پامالی کیخلاف جہلم ویلی عوام سڑکوں پرآگئے ،شدید احتجاج، سرینگر شاہراہ بند

ہٹیاں بالا(کشمیر ڈیجیٹل )آج جہلم ویلی میں سینکڑوں پڑھے لکھے، باشعور اور پرعزم نوجوانوں نے محکمہ صحت میں جاری میرٹ کشی، اقرباء پروری، اور غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

شاہرہ سرینگر مکمل طور پر بلاک کر دی گئی، اور شرکاء نے حکومت مخالف فلک شگاف نعرے بلند کیے جن میں “جعلی تقرریاں نامنظور!” اور “ساڈا حق اتھے رکھ!” نمایاں رہے۔

جہلم ویلی میں آج ایک بھرپور اور تاریخی احتجاج دیکھنے میں آیا جہاں سینکڑوں تعلیم یافتہ نوجوانوں، وکلاء، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے محکمہ صحت میں ہونے والی غیر شفاف، غیر قانونی اور سیاسی بنیادوں پر کی گئی بھرتیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

مظاہرین نے شاہرہ سرینگر کو پرامن طور پر بند کر کے فلک شگاف نعرے بلند کیے جن میں میرٹ کی بحالی، جعلی تقرریوں کی واپسی، اور عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کے مطالبات شامل تھے۔

احتجاج کی قیادت معروف نوجوان رہنما سید ذیشان حیدر نے کی جنہوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت جیسے حساس ادارے میں سیاسی اقرباء پروری اور بندربانٹ نہ صرف گورننس کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ عوام کی صحت اور زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، سخت مقابلے کا سامنا کیا اور زندگی کے کئی سال محنت میں گزارے، انہیں نظر انداز کرنا صرف ناانصافی نہیں بلکہ جرم ہے۔

سید ذیشان حیدر نے آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے عوامی اُمنگوں کی ترجمانی کی ہے اور ہم عدلیہ کے ان اقدامات کو سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس غیر قانونی اور سیاسی طور پر تشکیل دی گئی کمیٹی کو تحلیل نہ کیا گیا

سید ذیشان حیدر کا کہنا تھا بھرتیوں کا عمل شفافیت و میرٹ کے اصولوں کے مطابق ازسرِ نو نہ چلایا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے آزاد کشمیر تک وسیع کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ میرٹ صرف ایک اصول نہیں بلکہ ایک قوم کی بقاء، ترقی اور انصاف کی بنیاد ہے۔ جب اداروں میں میرٹ کو پامال کیا جاتا ہے تو اس کا اثر صرف بھرتی کے متاثرین پر نہیں بلکہ پورے نظام پر پڑتا ہے۔

نااہل افراد کے تقرر سے نہ صرف ادارے تباہ ہوتے ہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی ختم ہو جاتا ہے۔یہ احتجاج نہ صرف جہلم ویلی کے نوجوانوں کا حق ہے بلکہ پورے آزاد کشمیر کے اُن تمام نوجوانوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی صلاحیت اور محنت سے اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں لیکن انہیں سیاسی رکاوٹیں اور اقرباء پروری آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔

آخر میں سید ذیشان حیدر نے کہا کہ یہ تحریک میرٹ، انصاف، ادارہ جاتی شفافیت، اور نوجوانوں کے حق کے لیے ہے۔ یہ ایک وقتی احتجاج نہیں بلکہ ایک اصولی جنگ ہے، جسے ہر اُس شخص کو لڑنا ہوگا جو آزاد کشمیر میں میرٹ کی بالادستی چاہتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی ، آزادکشمیر سمیت ملک کے بیشترعلاقوں میں موسلادھار بارشیں ،سیلاب ،ژالہ باری کاخدشہ

Scroll to Top