26 مئی سے انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، مشن مکمل ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی،مصطفیٰ کمال

پولیو کے خاتمے کی قومی جدوجہد کے تحت آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں 26 مئی سے انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس مہم میں لاکھوں رضاکار، محکمہ صحت کے اہلکار اور مقامی انتظامیہ حصہ لے رہی ہے تاکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو جیسے خطرناک وائرس سے بچایا جا سکے۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیو کے خاتمے کی جدوجہد میں ہم نے قربانیاں دی ہیں اور یہ مشن اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہم کے دوران آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کے 4 کروڑ 54 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انسدادِ پولیو کے لیے مکمل معاونت اور وسائل فراہم کر رہی ہے اور عالمی اداروں سے قریبی روابط کے ذریعے اس مہم کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی پولیو کے خاتمے کے لیے قریبی تعاون جاری ہے اور دونوں ممالک میں بیک وقت پولیو مہمات کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ سرحدی علاقوں میں وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکے۔

مصطفیٰ کمال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رواں سال کے اختتام تک پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہم پُرعزم ہیں اور قوم سے اپیل ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوا کر اس مہم کو کامیاب بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں آندھی، گرج چمک اور بارش کی پیشگوئی

دریں اثناء وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر کرس ایلس نے پاکستان کے انسدادِ پولیو اقدامات کو سراہا ہے اور اُمید ظاہر کی ہے کہ پاکستان 2025ء میں پولیو سے پاک ملک بننے کا ہدف حاصل کر لے گا۔

Scroll to Top