مودی سرکار کا بھارت مخالف پاکستانی صحافیوں کو ’’بلیک آؤٹ ایوارڈز‘‘ کا اعلان، نجم سیٹھی، حامد میر، طلعت حسین ،کاشف میر سرفہرست

نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف صحافیوں کو ایک منفرد اور متنازع ’’اعزاز‘‘ سے نواز دیا۔ نیوز براڈکاسٹرز اینڈ ڈیجیٹل ایسوسی ایشن (این بی ڈی اے) کے ذریعے جاری کردہ ایک خفیہ مگر فیصلہ کن سرکلر میں نجم سیٹھی، حامد میر، طلعت حسین اور خواجہ کاشف میر کو بھارتی میڈیا میں مکمل بلیک آؤٹ کی فہرست میں ’’نمایاں مقام‘‘ عطا کیا گیا ہے، گویا انہیں حکومتِ ہند کی طرف سے ’’بھارت مخالف بیانیے کے خلاف سب سے مؤثر آواز‘‘ کا غیر رسمی ایوارڈ دیا گیا ہے۔

یہ ہدایت 4 مئی 2025 کو جاری کی گئی جو کو 7 مئی کے دوسرے سرکلر میں زیادہ سختی سے دہرایا گیا، اس سرکلر میں بھارتی میڈیا اداروں کو سختی سے متنبہ کیا گیا کہ وہ ان شخصیات کو اپنے ٹی وی یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہرگز مدعو نہ کریں۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ صحافی بھارتی ریاستی بیانیے کو چیلنج کرنے اور عوامی سوچ پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے ان پر فوری اور غیر معینہ مدت تک پابندی عائد کی جا رہی ہے۔نجم سیٹھی، جو پاکستانی سیاست، عسکریت اور بین الاقوامی تعلقات پر بےباک تجزیات کے لیے جانے جاتے ہیں، فہرست میں سرفہرست ہیں۔

حامد میر، جو آزادی صحافت کے علمبردار اور جیو نیوز کے ممتاز اینکر ہیں، ان کی تنقیدی صحافت کو بھارتی حکومت نے خطرہ قرار دیا ہے۔ طلعت حسین، جو حکومتی پالیسیوں اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کیلئے مشہور ہیں، ان کی آواز کو بھی بھارتی پلیٹ فارمز سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

خواجہ کاشف میر، جو اسلام آباد میں مقیم آزاد کشمیر کے صحافی معروف تجزیہ کار ہیں اور کشمیر سمیت انسانی حقوق اور میڈیا پر دباؤ جیسے موضوعات پر عالمی سطح پر متحرک ہیں، انہیں بھی غیر رسمی طور پر’’کشمیر بیانیے کا خطرناک سفیر‘‘ قرار دے کر بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔اس فہرست میں شامل دیگر صحافیوں میں عارزو (عارفہ) کاظمی، اطہر کاظمی، راجہ فیصل، احمد نورانی، نصرت جاوید اور ندیم ملک شامل ہیں، جنہیں بھی غیر اعلانیہ ’’سزا‘‘ کے طور پر بھارتی میڈیا سے مکمل طور پر بےدخل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس پابندی کا پس منظر پاہلگام میں حالیہ واقعہ اور بھارت میں بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ سے جڑا ہوا ہے، جہاں ریاستی ادارے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر بیانیہ کنٹرول کرنے کیلئے سرگرم ہیں۔بھارتی وزارت اطلاعات کی جانب سے تمام ادارتی، قانونی اور پروڈکشن ٹیموں کو سختی سے حکم دیا گیا ہے کہ ان ناموں کو ہر سطح پر بلیک آؤٹ کیا جائے، بصورت دیگر متعلقہ ادارے کو بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ “ایوارڈ” نما بلیک لسٹ اس بات کا عملی اعتراف ہے کہ مذکورہ صحافی اپنی صحافت اور بیانیے کے ذریعے بھارتی ریاستی ڈھانچے کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستانی میزائل کے تابڑ توڑ حملوں نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، امریکی صحافی کا انکشاف

Scroll to Top