بھارت نہ رکا تو ردعمل اور بھی شدید ہوگا: پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے امریکا پر واضح کر دیا

اسلام آباد: پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت ، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی حکام سے رابطے میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر بھارت نے حملے بند نہ کیے تو پاکستان کا جواب مزید سخت ہوگا۔

6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت کی جانب سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے پانچ مختلف مقامات پر حملے کیے گئے جن کا پاکستانی فورسز نے مؤثر جواب دیا۔ بھارتی افواج نے نہ صرف ڈرون بلکہ میزائل حملوں کے ذریعے پاکستانی ایئر بیسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، حالانکہ پاکستان نے پہلے ہی ممکنہ نتائج سے آگاہ کر رکھا تھا۔

جوابی کارروائی میں پاکستان نے بھارت کے ادھم پور، آدم پور، پٹھان کوٹ اور بھٹنڈا سمیت کئی اہم ایئرفیلڈز کو شدید نقصان پہنچایا۔ ساتھ ہی مہاراشٹرا کی الیکٹرک کمپنی پر سائبر حملے سے بجلی کا نظام مفلوج کیا گیا اور ایک بھارتی ملٹری سیٹلائٹ کو بھی جام کر دیا گیا۔ گجرات میں پاکستانی ڈرونز کئی گھنٹوں تک فضا میں موجود رہے۔

ان حالات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ ترجمان امریکی وزارت خارجہ ٹیمی بروس نے تصدیق کی کہ امریکی وزیر خارجہ نے فریقین پر کشیدگی کم کرنے اور تعمیری انداز میں آگے بڑھنے پر زور دیا، جبکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچنے کے لیے تعاون کی پیشکش بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’بُنْيَانٌ مَرْصُوص‘ کی کاری ضرب ! بھارت نے نقصانات کا اعتراف کرلیا

مارکو روبیو نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی بات چیت کی، جس میں انہوں نے تمام فریقین کو تحمل سے کام لینے کی ترغیب دی۔ ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار نے امریکی ہم منصب کو باور کرایا کہ اگر بھارت حملے روک دے تو پاکستان بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل کے لیے تیار ہے، تاہم بھارتی جارحیت جاری رہی تو ردعمل مزید شدید ہوسکتا ہے۔

ادھر بھارت سے بھی امریکا کے رابطے جاری ہیں، اور مارکو روبیو نے چند روز قبل بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے بھی گفتگو کی تھی۔ تاہم اس کے باوجود بھارت کی جانب سے حملے جاری رکھے گئے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس تنازع کا فریق نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی مداخلت کرے گا۔

Scroll to Top