لاہور:پہلگام واقعہ کے بعد بھارت انسانیت بھول گیا، واہگہ بارڈر پرگزشتہ روز ایک ایسا منظر پیش آیا جس نے ہر حساس دل کو لرزا کر رکھ دیا۔
بھارتی حکام نے ایک بھارتی ماں ثناء بلال سے اس کے دو معصوم بچوں کو جدا کر کے پاکستان کے حوالے کر دیا جبکہ ماں بچوں کی جدائی پر تڑپتی رہی اور انسانی ہمدردی کی اپیل کرتی رہی۔
ثناء بلال بھارتی شہر میرٹھ کی رہائشی اور بھارتی پاسپورٹ ہولڈر ہیں نے چند سال قبل پاکستانی شہری بلال گجر سے شادی کی تھی اور وہ کراچی میں مقیم تھیں۔وہ 45 دن کے ویزے پر اپنے والدین سے ملنے بھارت آئی تھیں، مگر ان کا یہ دورہ ایک اذیت ناک جدائی کی شکل اختیار کر گیا۔
ثناء کے مطابق 25 اپریل کو جب بھارتی حکومت نے پاکستان سے آئے شہریوں کو واپسی کی ہدایت کی تو وہ فوراً اپنے دونوں بچوں ایک سالہ ماہ نور اور تین سالہ مصطفیٰ کے ساتھ اٹاری بارڈر پہنچ گئیں لیکن بھارتی حکام نے انہیں پاکستان جانے سے روک دیا۔
وجہ یہ بتائی گئی کہ ثناء بھارتی شہری ہیں جبکہ ان کے بچے پاکستانی شہریت رکھتے ہیں، اس لیے بچوں کو پاکستان واپس بھیجنا ہوگا۔گزشتہ روز جذبات سے لبریز اور دکھ بھرا وہ لمحہ آیا جب زیرو لائن پر کھڑی ماں نے اپنے معصوم بچوں کو روتے ہوئے پاکستان کی حدود میں کھڑے اپنے شوہر کے حوالے کیا۔
بچوں کی چیخ و پکار اور ماں کی آہ و بکا نے وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر افراد کو بھی آبدیدہ کر دیا۔
ثناء نے روتے ہوئے کہاکہ بتائیں یہ معصوم بچے ماں کے بغیر کیسے رہیں گے؟ کیا قانون میں انسانیت کی کوئی گنجائش نہیں؟بچوں کے والد بلال ،انہیں سینے سے لگائے اور اپنی اہلیہ کو نم آنکھوں کے ساتھ الوداع کہتے ہوئے کراچی روانہ ہوگئے۔
یہ واقعہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا قوانین اتنے بے رحم ہو سکتے ہیں کہ وہ ایک ماں کو اپنے بچوں سے جدا کر دیں؟ ماں کی ممتا، بچوں کی معصومیت اور ایک خاندان کی بکھرتی ہوئی تصویر اس واقعے میں پوری شدت سے نمایاں ہوئی۔
اس سے قبل کئی پاکستانی مائوں کو ان کے بچے چھین کر واپس بھیجا گیا تھا جن میں مظفر آباد کی ایک خاتون بھی شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی سنگدلی،40سال سے اڑی میں مقیم مظفر آباد کی بزرگ خاتون کو بھی بے دخل کردیا




