سوشل میڈیا نے رشتوں کو کمزور کر دیا ہے، نوجوان قانون دان ذوالقرنین نقوی

نوجوان قانون دان ذوالقرنین نقوی نے کشمیر ڈیجیٹل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ سوشل میڈیا نے جہاں ہمیں قریب کیا ہےوہیں ہماری روایات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اب لوگ محض ایک پیغام یا کال کے ذریعے اپنی تمام ذمہ داریوں سے مبرا ہو جاتے ہیں جس سے ہمارے رشتوں میں کمزوری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دوست اور رشتہ دار ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن اب محض میسج یا کال کر کے تعلقات نبھائے جا رہے ہیں۔ اصل ملاقات کی اہمیت ختم ہو رہی ہے جبکہ حقیقی لمحے میں جینے کا احساس کمزور پڑ رہا ہے۔ ذوالقرنین نقوی نے سوشل میڈیا کے حوالے سے کہا کہ “فیس بک دراصل فیک بُک ہے، چیزیں حقیقت میں ویسی نہیں ہوتیں جیسی سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں۔”

ماضی کی عیدوں کو یاد کرتے ہوئے انھوں نےکہا کہ بچپن کی عید کا منظر ہی الگ تھاسوشل میڈیا کے ساتھ خوشیاں بھی کم ہو گئیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے عید آتی تھی تو بازاروں میں اسٹالز لگتےتھے، عید کارڈز خریدے اور دیے جاتےاورلوگ سنبھال کر انہیں یادگار کے طور پر رکھتے تھےلیکن آج محض پیغامات بھیجے جاتے ہیں جو کچھ وقت بعد ہی ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک کو تشدد کی طرف دھکیلنے کی کوششیں خطرناک ثابت ہوں گی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی

ذوالقرنین نقوی نے کہا کہ دنیا مادہ پرستی کی طرف جا رہی ہے، ہمارے سماجی تعلقات کمزور ہو چکے ہیں اور وہ خوشگوار لمحات جو کبھی ہماری زندگی کا حصہ تھے اب ماند پڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان روایات کو دوبارہ زندہ کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت ہمارا معاشرے ایک صحت مند اور خوشحال معاشرہ مانا جاتاتھا۔

Scroll to Top