مشی گن میں ڈیموکریٹس کے حوصلے بلند: عبدالصمد السید کی فتح کے واضح امکانات

ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائم کردہ مرکزی انتخابی دفتر میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز چکا ہے، جہاں خصوصی اسٹیج تیار کیا گیا ہے اور ڈی جے کی جانب سے موسیقی بجائی جا رہی ہے۔ انتخابی مرکز کا ماحول انتہائی پُرتمکنت ہے اور وہاں موجود پارٹی کے کارکنوں میں زبردست جوش، جذبہ اور تحرک دیکھنے میں آ رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جن ڈیموکریٹک رہنماؤں اور حامیوں سے ان کی گفتگو ہوئی ہے، وہ کچھ روز قبل کے احوال کے مقابلے میں اب انتخابی نتائج کے حوالے سے کہیں زیادہ پُرامید اور پرعزم نظر آ رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک خیمے میں پائی جانے والی اس نئی امید نے کارکنوں میں واضح توانائی بھر دی ہے۔

ووٹنگ ٹرن آؤٹ اور نتائج کے توقعات:

سیاسی امور کے ماہر اور مشیر ایڈریان ہیمونڈ کا اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ عبدالصمد السید کے اس انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے امکانی شواہد کافی مضبوط اور روشن ہیں۔ ان کے تجزیاتی اندازے کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے یہ انتخابی رات انتہائی کامیاب اور خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے اور پارٹی کو نمایاں پیش رفت مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کو ملنے پر ٹرمپ انتظامیہ کونسی مشکل میں پڑ سکتی ہے؟

ایڈریان ہیمونڈ کے مطابق پارٹی کے اندر پایا جانے والا یہ پوراعتماد رویہ صرف عمومی سروے رپورٹس پر ہی منحصر نہیں ہے، بلکہ یہ آج کے دن پولنگ اسٹیشنز پر دیکھے جانے والے ووٹر ٹرن آؤٹ کے مثبت اور واضح رجحانات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں عوام کی بھرپور شرکت نے پارٹی کے موقف کو تقویت بخشی ہے۔

انتخابی پیش رفت اور حریف جماعت کی صورتحال:

سیاسی مشیر نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کی اکثریت اور اثر و رسوخ والے تمام علاقوں میں ووٹ درج کروانے کے لیے شہریوں کی لمبی اور طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ابتدائی ووٹنگ کے سامنے آنے والے اعداد و شمار کا جغرافیائی جائزہ بھی ڈیموکریٹک پارٹی کو حاصل واضح برتری اور پیش قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جس نوعیت کا بڑا جغرافیائی اور شماریاتی خسارہ اس وقت سامنے آ چکا ہے، حریف ریپبلکن پارٹی کے لیے اس کا ازالہ کرنا یا اسے پورا کرنا بالکل آسان نہیں ہوگا۔ تاہم یہ بات بھی مدِ نظر رہنی چاہیے کہ بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نے اپنی تازہ ترین انتخابی درجہ بندی میں مشی گن کے اس مجموعی مقابلے کو اب بھی انتہائی سخت اور کانٹے دار قرار دیا ہے۔