اسکولوں میں گوگل کا اے آئی اور سرچ رسائی بند کرنے کا فیصلہ

ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی گوگل نے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سرچ   رسائی کی فراہمی سے متعلق ایک نئی اور جامع پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد اسکولوں کے زیرِ انتظام چلنے والے اکاؤنٹس پر اسکول انتظامیہ کی صریح اجازت اور منظوری کے بغیر اے آئی اور گوگل سرچ کی سہولیات کو روکنا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق گوگل کی اس نئی پالیسی کا نفاذ اسکول انتظامیہ کی دیکھ بھال میں چلنے والے پہلی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک کے طلبہ کے تمام اکاؤنٹس پر ہوگا۔ پالیسی کے تحت ابتدائی مرحلے میں جیمنائی، نوٹ بک ایل ایم اور گوگل سرچ جیسی سہولیات کو خودکار طور پر بند ہی رکھا جائے گا، تاہم اگر اسکول انتظامیہ چاہے تو وہ اپنے اختیار کے تحت ان سروسز کو طلبہ کے لیے دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کرسکے گی۔

اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پالیسی کی تبدیلی:

گوگل کی جانب سے یہ اقدام اسکولوں کے تعلیمی ماحول میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس پر سامنے آنے والی مسلسل تنقید کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ نئی پالیسی کا بنیادی مقصد اسکول انتظامیہ کو یہ کامل اختیار دینا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرنے کی اجازت دیں یا ان کی رسائی کو محدود و بند رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل کا نیا اے آئی ٹول متعارف، اب بغیر کسی تکنیکی مہارت کے اپنا پسندیدہ گیم بنائیں

رپورٹ کے مطابق ان تمام نئی سیکیورٹی اور انتظامی تبدیلیوں پر عمل درآمد کا باقاعدہ آغاز 2027 کے اوائل میں شروع ہونے کا قومی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس طے شدہ پالیسی کا ایک اہم اور نمایاں پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جو اسکول اپنے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی سہولیات کو فعال نہیں کریں گے، ان اداروں میں روایتی گوگل سرچ کی سہولت بھی خودکار طور پر بند رکھی جائے گی۔

تعلیمی حلقوں کے تحفظات اور تنقیدی سوچ کی ضرورت:

اس اہم معاملے پر تعلیمی حلقوں میں ایک وسیع بحث چھیڑ گئی ہے اور یہ سوال سنجیدگی سے زیرِ بحث ہے کہ آیا طلبہ کو معلومات تلاش کرنے، مختلف ذرائع کا باہمی موازنہ کرنے اور تحقیق کی بنیادی مہارتیں سیکھنے کے لیے روایتی سرچ کی سہولت برقرار رکھنی چاہیے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق طلبہ کو روایتی سرچ کی رسائی دیتے ہوئے محض مصنوعی ذہانت کے استعمال کو محدود رکھنے کا اختیار اور طریقہ کار بھی فراہم کیا جانا چاہیے۔

شائع شدہ رپورٹ میں اس بات پر بھی خاص زور دیا گیا ہے کہ ایسی جدید مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے جو طلبہ کی اپنی ذاتی سوچ اور سوال کرنے کی صلاحیت کو نکھارے اور بہتر بنائے، نہ کہ ان کی تنقیدی سوچ کی جگہ مشینی اور خودکار جوابات کو منتقل کر دے۔ علاوہ ازیں، طلبہ کے سیکھنے کے عمل اور طریقوں سے متعلق معلومات اگرچہ اساتذہ کے لیے کافی مفید ثابت ہوسکتی ہیں، لیکن اس تمام عمل کے دوران طلبہ کی نجی معلومات کے تحفظ کو بھی ہر صورت یقینی بنانا نہایت ضروری ہوگا۔

مزید پڑھیں: گوگل کروم صارفین کے لیے اہم الرٹ؛ براؤزر فوری اپ ڈیٹ کرنے کا حکم