کالعدم کمیٹی شرپسندی کے لیے عام شہریوں کے گھر استعمال کر رہی ہے: ایس پی باغ کا بڑا الزام

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) باغ امیر الدین نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم اپنی غیر قانونی اور پرتشدد سرگرمیوں کے لیے عام شہریوں کے گھروں کو بطور آماجگاہ استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے اس سنگین صورتحال کو 29 اکتوبر کو پانڈی گاؤں میں ہونے والے اس خونریز دھماکے سے جوڑا ہے جس میں چار قیمتی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔

اپنے ایک ویڈیو بیان میں اعلیٰ پولیس آفیشل نے اس “فسادی ٹولے” کی جانب سے رہائشی مکانات کو شرپسندی کے لیے استعمال کرنے اور اس کے نتیجے میں بے گناہ انسانوں کے جانی نقصان پر انتہائی اہم اور سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

دھماکے کی تفصیلات اور سیکیورٹی اہلکاروں پر پرتشدد حملہ:

پانڈی گاؤں میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایس پی امیر الدین نے کہا کہ اس ناخوشگوار دھماکے میں دو خواتین اور دو بچے اپنی جانیں گنوا بیٹھے، جبکہ ایک بچی شدید زخمی ہوئی ہے۔

پولیس افسر نے مزید انکشاف کیا کہ واقعے کے فوراً بعد جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کیا تو ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی جانب سے ان پر اندھا دھند بھاری فائرنگ کی گئی اور دستی بموں (گرینیڈز) سے حملہ کیا گیا، جس سے سیکیورٹی اہلکاروں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔

تکنیکی حقائق اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے پر وضاحت:

ایس پی باغ نے تکنیکی شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ مکان کی بیرونی دیواروں پر دھماکے کا کوئی ظاہری نشان موجود نہیں ہے جبکہ کمرے کے فرش پر گہرے سوراخ موجود ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دھماکہ مکان کے اندر ہی ہوا تھا۔ انہوں نے ان تمام ادعاؤں اور افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں اس واقعے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ میں سڑکوں کی مسلسل بندش، فسادی ٹولے پر عوام کی کڑی تنقید

انہوں نے اس بات پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا کہ یہ گروپ پہلے دن سے ہی آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست اور اس کے اداروں کے ساتھ تصادم کا ماحول بنا رہا ہے اور اس افسوسناک واقعے کو بھی ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

غریبوں کے گھروں کو چھپنے کی جگہ بنانا اور کارروائی کا عزم:

ایس پی امیر الدین کا کہنا تھا کہ اس پورے واقعے سے یہ تلخ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آ گئی ہے کہ ایکشن کمیٹی کے عناصر غریب اور بے بس لوگوں کے گھروں کو اپنی باقاعدہ آماجگاہ اور چھپنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ بے گناہ اور معصوم شہریوں کی شہادت اور ہلاکتوں میں جو بھی عناصر ملوث پائے گئے، ان تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچاتے ہوئے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔