گلگت بلتستان اسمبلی کے سپیکر عمران ندیم نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت اور عوام نے ہمیشہ کشمیریوں کی آواز بلند کی ہے ، ہم توقع رکھتے ہیں کہ کشمیر کے سیاسی قائدین بھی اسمبلی کاخصوصی اجلاس بلا کر گلگت بلتستان کے عوام کےلئے آواز بلند کریں گے۔
گلگت بلتستان اسمبلی نے منگل کے ایک متفقہ طور پر ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں 27اکتوبر 1947 سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے غیر منصفانہ قبضے، بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ظلم وتشدد اور کشمیری عوام کی بنیادی آزادیوں پر عائد پابندی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام اقدامات کی مذمت کی گئی ہے اور کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے مسئلہ کشمیر کو نقصان نہیں پہنچے گا،وزیراعلیٰ امجد حسین
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان 27اکتوبر 2026 کو منائے جانے والے یوم سیاہ کے موقع پر 27اکتوبر 1947 کے واقعات کو یاد کرتا ہے اور اس تاریخ سے جموں وکشمیر پر بھارت کے مسلسل کنٹرول، انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیوں تشدد اور کشمیری عوام کی بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، یہ ایوان کشمیری عوام کی عزت نفس، آزادی اور بنیادی حقوق کو نقصان پہنچانے والے تمام بھارتی اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایوان عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقومی انسانی حقوق کی تنظیمیں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے کےلئے فوری بامعنی اور موثر اقدامات کریں۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان عالمی برادری پر مزید زور دیتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پرامن اور دیرپا حل کےلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، یہ حل جموں وکشمیر کے عوام کی خواہشات اور امنگوں، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قانون کے قابل اطلاق اصولوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ خطے میں دیرپا امن استحکام اور انصاف صرف اسی صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے جب مسئلہ کشمیر کا ایک منصفانہ اور پرامن حل نکالا جائے۔
قرارداد صوبائی وزیر محمد سلیم، صوبائی وزیر انور علی، صوبائی وزیر سید جلال علی شاہ اور ممبران اسمبلی عبدالجہان، رانا فرمان علی اور محمد علی کی یہ مشترکہ قرارداد عبدالجہان نے ایوان میں پیش کی۔
تمام ممبران نے قرارداد کی حمایت کی جس پر سپیکر عمران ندیم نے قرارداد کی متفقہ منظوری کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ ، این ایف سی ایوارڈ دیا جائے ، وزیراعلیٰ
اس موقع پر سپیکر عمران ندیم نے کہاکہ سب کے علم میں ہے کہ 27اکتوبر 1947 کو بھارت نے کشمیر پر جابرانہ قبضہ کیا تھا جو تسلسل سے جاری ہے ہم اس کی مذمت کرنے کےلئے اسمبلی کا یہ خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت اور فوج مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم وزیادتی کر رہی ہے اس کے خلاف گلگت بلتستان کے عوام اور یہ اسمبلی مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے سیاسی قائدین سے بھی ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں گلگت بلتستان کے عوام کےلئے آواز بلند کریں گے۔
یاد رہے کہ گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت عرصہ سے مطالبہ کررہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو متاثر کئے بغیر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنایا جائے اور یہاں کے لوگوں کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔




