تاریخی سکول آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم، بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

ہٹیاں بالا کے ضلع جہلم ویلی کی یونین کونسل نڑدجیاں کے علاقے جبڑا سیدہ میں واقع تاریخی گورنمنٹ مڈل سکول آج بھی مناسب عمارت اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ محض ایک سکول نہیں بلکہ اس علاقے کی تعلیمی تاریخ کا ایک انتہائی اہم باب ہے، جو قیامِ پاکستان اور ڈوگرہ حکومت سے بھی قبل تقریباً 1932ء سے قائم و دائم ہے۔ 2021ء میں اس سکول کو مڈل کا درجہ تو دے دیا گیا تھا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنی طویل تاریخ رکھنے کے باوجود یہ ادارہ آج بھی بنیادی سہولیات کے لیے ترَس رہا ہے۔

اس تاریخی سکول میں زیرِ تعلیم ننھے طلبہ و طالبات موسم کی شدید سختیوں کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ کبھی سخت دھوپ، کبھی بارش اور کبھی شدید سرد موسم کی کاٹ ان معصوموں کو برداشت کرنا پڑتی ہے، لیکن اس کے باوجود ان بچوں کا جذبۂ تعلیم مکمل طور پر برقرار ہے اور وہ تمام تر مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سابقہ و موجودہ قیادت اور سکول کی اپ گریڈیشن کا پس منظر:

اس سکول کی تاریخ اور اپ گریڈیشن کے حوالے سے ایلیمنٹری سکول ٹیچر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سکول پاکستان و کشمیر کی تقسیم سے قبل 1932ء میں قائم ہوا تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم ازاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان اور اس وقت کے وزیر تعلیم جو کہ اب موجودہ وزیراعظم ازاد کشمیر ہیں، انہوں نے اس ادارے کو بطور مڈل سکول اپ گریڈ کیا تھا، جو علاقے اور خاص کر جبڑا سیدہ کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔ اساتذہ نے وزیر تعلیم اور وزیراعظم سے میڈیا کے توسط سے پرزور گزارش اور ریکویسٹ کی کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے جو مڈل سکول کا پودا لگایا تھا، اب اس کی حالت پر غور و فکر کریں، اسے ترجیحی بنیادوں پر بڑا کریں، وہاں بلڈنگ کی تعمیر کا بنواس کریں اور تمام تر سہولیات فراہم کریں۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے مسئلہ کشمیر کو نقصان نہیں پہنچے گا،وزیراعلیٰ امجد حسین

اساتذہ کے درپیش مسائل، نالہ اور عملے کی کمی:

سکول کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ محدود ترین وسائل کے باوجود بچوں کو بہتر تعلیم دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، لیکن عمارت کی عدم دستیابی اور سہولیات کے بغیر تعلیمی عمل شدید متاثر ہو رہا ہے۔ اساتذہ نے نشان دہی کی کہ سکول کے بالکل ساتھ سے ایک نالہ گزر رہا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کو پڑھانا انتہائی مشکل کام بن جاتا ہے۔ نہ آنے کا صحیح راستہ ہے اور نہ جانے کا راستہ موجود ہے۔ سکول میں صرف 5 کا سٹاف ہے جو پیکج سکول کے تحت دیا گیا تھا، اس لیے یہاں سٹاف کی شدید کمی ہے جسے پورا کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے پل کا انتظام کیا جائے، کیونکہ جب نالے میں سیلاب آتا ہے یا بارش کی وجہ سے راستہ بند ہو جاتا ہے تو انتہائی سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں اور مجبوراً سکول بند کرنا پڑتا ہے۔ دسویں مہینے کی شدید سردی اور جیکٹیں پہننے کے باوجود بچوں کو کھلے میں بیٹھنا پڑتا ہے، لہٰذا حکام سے بلڈنگ اور فرنیچر کی فوری فراہم کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

معصوم طلبہ و طالبات کی دہائی اور مطالبات:

سکول کی طالبات کرن اور سعدیہ سمیت دیگر بچوں نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ وہ بہت دور دراز علاقوں سے سفر کر کے پڑھنے آتے ہیں، لیکن سکول میں بیٹھنے کے لیے فرنیچر یا ڈیسک تک موجود نہیں ہیں۔ طلبہ کے مطابق سکول کے پاس کل 3 کمرے ہیں جبکہ کلاسیں 10 ہیں، جس کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد کو مینج کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں سامنے بہتے نالے کی وجہ سے شدید ٹھنڈ ہوتی ہے اور سکول کی چھت بھی نہیں ہے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ پڑھنے کا شدید شوق رکھتے ہیں اور اپنا نام روشن کرنا چاہتے ہیں، لیکن بیٹھنے کی جگہ، عمارت، گراؤنڈ اور فرنیچر نہ ہونے سے ان کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ بچوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں بھی دیگر بچوں کی طرح محفوظ عمارت، کلاس رومز اور تمام چیزیں پوری فراہم کی جائیں۔

سابق طلبہ، اعلیٰ عہدیداران اور عوام کا سوالیہ نشان:

مزید  بتایا  گیاکہ اس تاریخی تعلیمی ادارے سے بڑی شخصیات اپنی ابتدائی اور آبائی تعلیم حاصل کر کے نکلیں اور آج اعلیٰ و اہم سرکاری و انتظامی عہدوں پر فائز ہیں۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے کئی اہم نام موجود ہیں، مگر افسوس کہ انہوں نے اپنے ہی سکول کی طرف توجہ نہیں دی۔ ایک این جی او کے تحت کچھ وقت پہلے تھوڑی بہت تعمیر کی گئی تھی جس سے صرف سر چھپانے کی جگہ بنی، لیکن بچوں کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ 2026ء کا سال ہے اور زلزلے کو بھی تقریباً 30 سال گزر چکے ہیں، مگر بچے آج بھی کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک نو دہائیوں پرانا تاریخی سکول آج بھی اس حال میں ہے تو یہ نہ صرف ایک سکول بلکہ پورے نظامِ تعلیم اور حکامِ بالا پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔