آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جہاں جدید دور کے ساتھ الیکٹرک سکوٹیوں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہیں چارجنگ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے خواتین اور طالبات کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر آج مظفرآباد شہر کا جائزہ لیا جائے تو سڑکوں پر سکوٹیوں کی تعداد میں کافی زیادہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جن پر زیادہ تر خواتین، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم بچیاں سفر کرتی نظر آتی ہیں جو روزمرہ آمد و رفت کے لیے سکوٹی پر ہی آتی اور جاتی ہیں۔
دارالحکومت میں الیکٹرک سکوٹیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود سب سے بڑی اور تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت اس حوالے سے کسی قسم کے عملی اقدامات نہیں اٹھا رہی۔ شہر میں سکوٹیاں تو موجود ہیں مگر ان کی چارجنگ کے لیے ایک بھی مخصوص سپاٹ یا سٹیشن قائم نہیں کیا گیا۔
پیٹرول پمپس کی طرز پر چارجنگ سپاٹس کا فقدان:
مظفرآباد جو کہ آزاد کشمیر کا مرکزی دارالحکومت اور کیپیٹل ہے، اس میں الیکٹرک سکوٹیوں کے چارجنگ سپاٹس کا تناسب ایک فیصد بھی دکھائی نہیں دیتا۔ جس طرح پیٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والی گاڑیاں یا بائیکیا والے پیٹرول پمپ سے پیٹرول ڈلواتے ہیں، اسی طرح الیکٹرک سکوٹیوں کے لیے بھی شہر میں چارجنگ پوائنٹس کا ہونا انتہائی ضروری تھا جو کہ مکمل طور پر غائب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 90 روز میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا منصوبہ
خواتین کو پیش آنے والی مشکلات اور دھکے لگانے پر مجبوری:
سکوٹی استعمال کرنے والی خواتین اور طالبات کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ چارجنگ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سفری زندگی میں سخت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ راستے میں جگہ جگہ ان کی الیکٹرک سکوٹی چارجنگ ختم ہونے کے باعث اچانک بند ہو جاتی ہے، جس کے بعد انہیں شدید پریشانی کے عالم میں سکوٹی کو دھکا لگا کر گھر تک لے جانا پڑتا ہے تاکہ اسے وہاں لے جا کر دوبارہ چارج کیا جا سکے۔
حکومت کے 100 دن کے پلان میں شامل کرنے کا مطالبہ:
شہریوں اور خاص طور پر متاثرہ خواتین کا حکومتِ وقت سے پرزور مطالبہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کے حل کو اپنی اولین ترجیح میں شامل کیا جائے۔ حکامِ بالا کو چاہیے کہ حکومت کے 100 دن کے پلان کے تحت مظفرآباد میں الیکٹرک سکوٹی چارجنگ سپاٹس کی فوری تنصیب اور نفاذ کو یقینی بنایا جائے تاکہ خاص طور پر تعلیمی اداروں میں جانے والی طالبات اور خواتین اس جدید سہولت سے صحیح معنوں میں مستفید ہو سکیں اور ان کی سفری مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔




