آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے شہریوں اور بالخصوص نوجوان نسل نے سابق وزیراعظم اور سینیئر رہنما راجہ فاروق حیدر کے حالیہ بیانات اور ان کی موجودہ سیاسی پالیسی پر اپنے شدید تحفظات اور آراء کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ راجہ فاروق حیدر ایک سینیئر پولیٹیشن اور سینیئر رہنما ہیں، اس ریاست کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر رہی ہے اور وہ اس ریاست کے وزیراعظم بھی رہے ہیں، لہٰذا ان کو یہ بالکل زیب نہیں دیتا کہ اس طرح کے نازیبا اور متنازع بیانات دیے جائیں۔
شہریوں کے مطابق اگر اقتدار میں ان کا جو حق بنتا تھا وہ انہیں اس بار نہیں مل سکا، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ اس طرح کے بیانات دیے جائیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے عوام کے اندر افرا تفری اور نفرت پھیلتی ہے۔ اگر کوئی چھوٹا موٹا عام بندہ ایسا بیان دے دے تو اس کی بات تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن یہ تو سینیئر لوگ ہیں جنہوں نے اس ریاست کی اتنی بڑی ذمہ داری نبھائی بھی ہے اور مسلسل نبھاتے چلے آئے ہیں۔ لہٰذا ایسے ذمہ دار لوگوں اور لیڈروں کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر اپنے احساسات کے ساتھ بیان دینا چاہیے۔
ریاست کی قیادت، عوام کی آواز اور بیانات کا تناظر:
شہریوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاست کے اندر عوام کی جو حقیقی آواز ہوتی ہے وہ وہاں کی لیڈرشپ ہی ہوتی ہے۔ فاروق حیدر صاحب اس وقت بھی اس ریاست کے ایک بڑے لیڈر ہیں اور ان کا کسی بھی ریاست کے اہم مسائل پر بیانات دینے کا حق بالکل حاصل ہے، لیکن اس میں بنیادی شرط یہ ہونی چاہیے کہ یہ بیانات ایک مثبت (پازیٹو) انداز میں سامنے آنے چاہئیں۔ ان بیانات کی وجہ سے ریاست کے اندر کسی بھی قسم کی بے چینی یا انارکی کی فضا ہرگز نہیں بننی چاہیے۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ چونکہ وہ ایک کافی سمجھدار لیڈر ہیں، لوگ ان سے کافی محبت کرتے ہیں اور عوامی توقعات بھی ان سے وابستہ ہیں تو اپنے بیانات کو ریاست کے فائدے میں دیں۔
یہ بھی پڑھیں:کرسی سے اترتے پر بیانیہ کیوں بدل گیا؟ فاروق حیدر کی دوغلی پالیسی بے نقاب
یوتھ کی آمد اور شاہ غلام قادر و فاروق حیدر پر تنقید:
آزاد جموں کشمیر کے ایک طالب علم نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس الیکشن میں ہم نے دیکھا کہ ہمارے نوجوانوں کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا ہے، جبکہ جو ہماری بزرگ سیاسی شخصیات ہیں جیسے کہ شاہ غلام قادر ہیں اور راجہ فاروق حیدر ہیں، ان لوگوں کو اس بار اقتدار کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ اکرام چوہدری کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے آپ نے دیکھا ہوگا کہ کشمیر میں ہمیشہ بزرگ سیاستدان ہی حکومت کرتے رہے ہیں اور ساری حکمت عملی بناتے رہے ہیں، لیکن اس بار نظام تبدیل ہوا اور ہماری ینگ یوتھ کو موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں ہمارے بزرگ سیاستدان اب من گھڑت کہانیاں بناتے ہیں، کمپرومائز کرتے ہیں اور تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ کشمیر کا مستقبل یوتھ کے ہاتھ میں ہے اور مستقبل روشن ہوگا۔
مسلم کانفرنس کا ماضی، پارٹی قیادت سے دوری اور الیکشن کا کردار:
طالب علم اور شہریوں نے تاریخی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ راجہ فاروق حیدر صاحب اور مسلم کانفرنس کی کہانی بہت پرانی ہے۔ انہوں نے مسلم کانفرنس میں بھی 2010ء سے پہلے اقتدار حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی، لیکن جب انہیں وزیراعظم شپ نہیں ملی اور سردار عتیق صاحب نے پارٹی صدارت بھی نہیں دی تو آخر ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے شاہ غلام قادر صاحب کے ساتھ مل کر مسلم کانفرنس کو توڑ دیا اور اسے ختم کر دیا۔ اس کے بعد کئی ادوارِ اقتدار آئے، لیکن ازاد کشمیر کے اندر ایک ہی اسمبلی ہے اور ایک ہی وزیراعظم بن سکتا ہے، لہٰذا اقتدار کی خاطر اپنے بیان کو ہر روز بدلنا درست نہیں ہے۔ شہریوں نے مزید کہا کہ افتخار گیلانی کے الیکشن میں انہوں نے شاہ غلام قادر صاحب سے مل کر مظفرآباد کے اندر جو کردار ادا کیا، اس سے پارٹی کو، شہباز شریف صاحب، مریم نواز اور افتخار گیلانی کو واضح ثبوت مل چکے ہیں کہ انہوں نے کیا کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے فاروق حیدر صاحب پارٹی کے اندر اپنا ساکھ اور مقام کھو چکے ہیں۔ اب بھی ان کے پاس وقت ہے کہ وہ پارٹی کے اندر واپس آئیں اور اپنے بیانات کو درست سمت میں استعمال کریں۔
اقتدار سے باہر ہونے پر منفی ردِعمل اور عوام میں نفرت:
شہریوں اور نوجوانوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جدید دور میں ینگ قیادت کو ہی سامنے آنا چاہیے اور اس مرتبہ بھی خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے سامنے نئے چہرے اور نوجوان قیادت آئی ہے۔ تاہم فاروق حیدر صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک وہ خود اقتدار کے اندر موجود تھے، تب تک ان کے لیے سب کچھ ٹھیک تھا اور جیسے ہی وہ اقتدار سے باہر ہو گئے ہیں تو اب انہیں ہر چیز غلط دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ انہیں اس طرزِ عمل سے تھوڑا گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرح کے بیانات دینے سے صرف اور صرف عوام میں نفرت پھیل سکتی ہے۔ یہ بیانات کشمیر اور پاکستان کے عوام کے درمیان یا حکومت کے درمیان صرف نفرت پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں اور اس کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا نتیجہ نہیں نکل رہا۔




