امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیوں کے دوران قطر کے مصالحت کاروں کا وفد تہران پہنچ گیا ہے۔ وفد کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
آن لائن جریدے دی ہرمز ٹائمز کے مطابق قطری وفد ایرانی حکام کو امریکی صدر کے مطالبات پہنچائے گا۔ اس پیش رفت سے قطر کا سفارتی کردار ایک بار پھر نمایاں ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے خودکش ڈرونز کی ویڈیو جاری کردی، جنگ کیلئے تیار ہیں، آرمی چیف
ایرانی موقف کے مطابق منجمد اثاثوں کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ مذاکرات کی اہم شرائط میں شامل ہیں۔ تہران چاہتا ہے کہ امریکا فوجی اور اقتصادی دباؤ کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
ایران کی جانب سے یہ مطالبات پہلے بھی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے جا چکے ہیں۔ ایرانی حکام نے جنگ کے خاتمے، منجمد رقوم کی بحالی اور بحری ناکہ بندی اٹھانے کو سفارتی پیش رفت سے منسلک کر دیا ہے ۔
امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ قطری وفد کی آمد سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے ۔
امریکی صدر کی دھمکیوں اور ایران کے سخت مطالبات کے باعث ثالثوں کو دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کم کرنے کا مشکل مرحلہ درپیش ہے۔ قطری حکام کی کوششوں کا اہم مقصد کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے راستہ پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل از وقت ووٹ کاسٹ کر دیا
پاکستان بھی ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی کوششوں میں کردار ادا کر رہا ہے۔ قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی کے ذریعے ایسے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں جو دونوں ممالک کو مذاکرات کی طرف واپس لا سکیں۔




