سونا مزید سستا: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں کمی

عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا مزید 900 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 34 ہزار 536 روپے پر آ گیا ہے۔

اس کے علاوہ صرافہ بازاروں میں 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں 10 گرام سونا 772 روپے کی کمی کے بعد 3 لاکھ 72 ہزار 544 روپے کی سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کو بڑا جھٹکا:

عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد اسپاٹ گولڈ کی فی اونس قیمت 1.3 فیصد کی کمی سے 4,085.29 ڈالر پر آ گئی ہے، جو کہ 14 اکتوبر کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی، فی تولہ سونا مزید سستا

اسی طرح ایشیائی تجارتی سرگرمیوں کے دوران امریکی گولڈ فیوچرز (دسمبر کی فراہمی) میں 1.2 فیصد کی فوری کمی ہوئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 4,100.90 ڈالر فی اونس پر ریکارڈ کی گئی ہے۔

مہنگائی کے خدشات، شرحِ سود اور ماہرین کا تجزیہ:

اقتصادی و مالیاتی ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔ ان حالات کے پیشِ نظر دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھے جانے کا قوی امکان ہے۔

ماہرین کی رائے میں شرحِ سود میں اضافے سے سونے کی بحیثیت سرمایہ کاری کشش کم ہو جاتی ہے، کیونکہ سونا اپنے سرمایہ کاروں کو باقاعدہ منافع یا سود کی رقم ادا نہیں کرتا۔ تکنیکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت کے لیے 4,073 ڈالر فی اونس کی سطح اہم ترین سپورٹ کا درجہ رکھتی ہے۔ تاہم، اگر قیمت 4,135 ڈالر کی حد عبور کرتی ہے تو یہ 4,150 سے 4,169 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔

دیگر قیمتی دھاتوں کے عالمی نرخوں میں کمی:

سونے کے علاوہ عالمی مارکیٹ میں دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی مندی کا رجحان غالب رہا:

چاندی (Spot Silver): 3.3 فیصد کمی کے بعد 56.05 ڈالر فی اونس۔

پلاٹینم (Platinum): 2.2 فیصد کمی سے 1,593.05 ڈالر فی اونس۔

پیلیڈیم (Palladium): 2.7 فیصد کی مندی کے بعد 1,057.32 ڈالر فی اونس۔

مالیاتی ماہرین قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اس گراوٹ کو عالمی مہنگائی کے خدشات، شرحِ سود سے متعلق متوقع فیصلوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے بدلتے ہوئے رجحانات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔