اسلام آباد ہائیکورٹ کا اقدام باقاعدہ چیلنج: آزاد کشمیر کے شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق پر اہم سوالات

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کا ڈومیسائل رکھنے والے امیدواروں کے نام جوڈیشل سروس کے اہل امیدواروں کی فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں۔

عدالتی انتظامیہ کے خط کے مطابق، اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 کے رول 14 کے تحت سول جج کے عہدے کے لیے امیدوار کا بنیادی طور پر پاکستانی شہری ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خط میں درج مختلف عدالتی نظائر کو بنیاد بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کا ڈومیسائل رکھنے والے افراد اس مخصوص شہریت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔

آئینی حیثیت، شہریت اور قانونی حقوق کا نیا تنازع:

اس فیصلے کے بعد قانون دانوں اور شہری حلقوں میں یہ بنیادی بحث چھڑ گئی ہے کہ پاکستان کے ساتھ خصوصی اور مضبوط آئینی و سیاسی تعلق رکھنے والے آزاد کشمیر کے شہری کیا وفاقی دارالحکومت میں عدالتی خدمات کے اہل نہیں ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے شہری پاکستان میں فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈومیسائل کسی فرد کی علاقائی وابستگی کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ شہریت کا قانونی حیثیت سے الگ تعلق ہے، جس کی بنیاد پر اس فیصلے سے آزاد کشمیر کے شہریوں کے آئینی حقوق، شہریت کی تشریح اور عدالتی اہلیت کے طے شدہ معیار پر گہرے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

عدالتی خط کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں باقاعدہ چیلنج کر دیا گیا:

اس فیصلے اور عدالتی خط کے خلاف باقاعدہ آئینی و قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

متاثرہ امیدوار اور درخواست گزار ایڈووکیٹ عمیر شفیق مغل نے معروف قانون دان سردار عبد الرزاق خان ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے اس عدالتی خط اور اقدام کو باقاعدہ چیلنج کر دیا ہے۔