اسلام آباد: پاکستان کی پارلیمنٹ کی اہم ترین کمیٹی “کشمیر کمیٹی” کی 10 سالہ سربراہی، وفاقی وزیر کے برابر مراعات، سرکاری رہائش اور دو سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کے باوجود مولانا فضل الرحمان کے دور کی عملی کارکردگی، کروڑوں کے اخراجات اور نتائج پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان 2008ء سے 2018ء تک مسلسل تقریباً ایک دہائی یعنی 3650 دن تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے۔ تاہم، اس طویل عرصے میں کشمیر کاز کے لیے حاصل ہونے والے ٹھوس اور قابلِ تصدیق نتائج آج بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
کروڑوں کے اخراجات بمقابلہ چند اجلاس:
کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین شہریار خان آفریدی کے اکتوبر 2020ء کے انکشافات اور دعؤوں کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے 10 سالہ دورِ حکومت میں کمیٹی کے صرف 24 اجلاس منعقد ہو سکے۔ ان کے مطابق اس عرصے کے دوران کمیٹی کے لیے مختص 47 کروڑ 40 لاکھ روپے کے مجموعی بجٹ میں سے 46 کروڑ 30 لاکھ روپے خطیر رقم خرچ کی گئی، جبکہ بدلے میں صرف 62 پریس ریلیز جاری کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے بیان کی شدید مذمت: سنٹرل بار کے پریس سیکرٹری ایڈووکیٹ سید نواز حیدر کا اہم ردعمل
ایک دہائی تک اس اہم قومی اور حساس مسئلے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی، سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال اور عملی کارکردگی کے درمیان یہ تقابل ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
عالمی سفارتکاری میں عدم پیش رفت اور عوامی تحفظات:
کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری صرف بیانات جاری کرنے یا اجلاسوں میں شرکت تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس عہدے کا بنیادی مقصد مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، غیر ملکی سفارتی حلقوں تک پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پہنچانا اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے عالمی سطح پر پارلیمانی دباؤ پیدا کرنا تھا۔
اور پڑھیں:دالبندین میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ آپریشن: 2 مطلوب دہشتگرد ہلاک، ٹھکانے تباہ
عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان تین مختلف حکومتوں کے ادوار میں اس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے اور فنڈز حاصل کرتے رہے، لیکن وہ کسی بھی بیرونی سفارتخانے یا عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو موثر انداز میں اجاگر کرنے میں ناکام رہے۔ 10 سالہ طویل دور کے حوالے سے یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کروڑوں روپے کے اخراجات کے نتیجے میں کون سے ٹھوس اہداف حاصل کیے گئے، کن ممالک کی پالیسی پر مثبت اثر پڑا اور عالمی برادری میں پاکستان کے مؤقف کو آگے بڑھانے کے لیے کیا پیش رفت ہوئی؟ عوام ان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ عوامی عدالت میں آکر ان تمام امور کا حساب دیں۔




