وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے میں معصوم بچوں اور دیگر افراد کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے حادثے میں اپنی جان کی بازی ہارنے والے معصوم بچوں، اساتذہ اور دیگر تمام متاثرین کے لیے دعا کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی ہے۔
متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی اور صحت یابی کی دعا:
انہوں نے متاثرہ اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور اس عظیم صدمے کے موقع پر ان کے غم میں برابر کی شرکت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے حادثے میں شدید و معمولی زخمی ہونے والے افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی نیک تمناؤں اور دعا کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول حادثہ: جاں بحق افراد کی تعداد 29 ہو گئی، اسپتال میں ایمرجنسی اور امدادی کارروائیاں جاری
اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے متعلقہ انتظامی اور طبی حکام کو فوری ہدایت جاری کی کہ حادثے کے تمام زخمیوں کو کسی بھی قسم کی غفلت کے بغیر بہترین اور ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
تعلیمی اداروں میں حفاظتی معیار اور سنگین مسائل:
پشاور میں پیش آنے والا یہ المناک واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ اور عمارتوں کے تعمیراتی معیار کے حوالے سے ایک انتہائی سنگین اور درپیش مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ماضی میں بھی سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارات کا باقاعدہ حفاظتی معائنہ نہ ہونے کے باعث اس نوعیت کے خطرات سامنے آتے رہے ہیں۔
اس قسم کے المیے اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کے لیے صرف تدریسی سرگرمیاں ہی نہیں بلکہ طالب علموں اور اساتذہ کی جانی سلامتی سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ ضلعی اور تعلیمی انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں کی تمام عمارات کا بروقت سٹرکچرل اور سیفٹی آڈٹ ناگزیر ہے، کیونکہ بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو نظر انداز کرنا براہِ راست معصوم اور بے گناہ جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہوتا ہے۔




