وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ کے پس منظر میں خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید نے ضلعی پولیس کو مکمل طور پر ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صوبائی اسمبلی اور حساس سرکاری عمارتوں کے اردگرد سیکیورٹی کا سخت ترین حصار قائم کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
آئی جی پی نے پرتشدد مظاہروں اور غیر قانونی اقدامات سے نمٹنے کے لیے سخت قانونی اور عملی رہنما اصول اور تفصیلی نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد صوبے کے اندر امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر جواب دینا ہے۔
حساس مقامات کی سیکیورٹی اور ڈی پی اوز کو ہدایات:
آئی جی پی کے دفتر سے جاری کردہ تفصیلی نوٹیفکیشن میں واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ بدعنصر اور ریاست مخالف عناصر مظاہروں کی آڑ میں تشدد اور تخریب کاری کو ہوا دے سکتے ہیں۔ اس لیے تمام ڈی پی اوز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں ہونے والے تمام احتجاجی مظاہروں کی ذاتی طور پر نگرانی کریں۔
پولیس چیف نے احکامات دیے ہیں کہ احتجاجی راستوں کے اردگرد حساس مقامات بشمول پولیس اسٹیشنز، سرکاری عمارتیں، پٹرول پمپس، بینک، شاپنگ سینٹرز اور اہم شاہراہوں کی سیکیورٹی کے لیے کافی تعداد میں نفری تعینات کی جائے۔ امن و امان خراب ہونے کے خدشے پر ڈی پی اوز منتظمین کو خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کے سیکشن 84 کے تحت احتجاج یا جلسے کا لائسنس حاصل کرنے کا پابند بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخواسکیورٹی صورتحال: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب کر لیا
قانونی اختیارات، ضوابط اور خلاف ورزی پر کارروائی:
اگر کوئی جلوس لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے تو پولیس افسران اسے روکنے اور مجمع کو منتشر کرنے کا قانونی حکم دے سکتے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سیکشن 85 کی ذیلی دفعہ 1 کی نافرمانی کرنے والے کسی بھی مجمع کو فوری طور پر غیر قانونی اجتماع قرار دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ پولیس افسران سیکشن 88 کے تحت سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر رکاوٹیں کھڑی کر کے کسی بھی سڑک یا عوامی مقام کو عارضی طور پر بند یا ریگولیٹ کر سکتے ہیں۔ غیر قانونی اشیاء یا آتشیں اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف سیکشن 86 کی ذیلی دفعہ 1 اور تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 148 کے تحت سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
طاقت کے استعمال کا لائحہ عمل اور پولیس کا تجزیہ:
احتجاج سے نمٹنے کے لیے پولیس کو انتہائی احتیاط اور مرحلہ وار طریقہ کار اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پرامن احتجاج اور روڈ بلاکس کے دوران پولیس زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرے گی اور سینئر ترین افسر مظاہرین سے مذاکرات کرے گا، جبکہ صورتحال خراب ہونے پر کم سے کم ضروری معیار کے تحت طاقت کا استعمال کیا جائے گا جس کا آغاز واضح وارننگ اور آنسو گیس سے ہوگا۔
صوبے میں سیاسی محاذ آرائی اور وفاق کی جانب سے متوقع اقدامات کے تناظر میں پولیس کا یہ الرٹ انتظامی تیاری کا ایک انتہائی اہم قدم ہے۔ اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک کڑے امتحان کا سامنا ہے جہاں شہریوں کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام بھی ضروری ہے اور دوسری جانب شرپسند عناصر کی جانب سے املاک کو نقصان پہنچانے کے خطرات سے سختی سے نمٹنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انتظامیہ سیاسی تناؤ کے باوجود امن و امان کی بحالی اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم دکھائی دیتی ہے۔




