اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا ایک اہم اجلاس آج صبح ساڑھے 9 بجے شروع ہو گیا ہے جس میں صوبہ خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔
اس اہم اجلاس میں خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور صوبے کے انتظامی اور امن و امان سے متعلق تمام سنگین معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کا ایجنڈا اور شرکت:
حکومتی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں منعقد ہورہا ہےجس میں تمام وفاقی وزراء شرکت کریں گے۔ اجلاس کے دوران بالخصوص خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، درپیش سکیورٹی چیلنجز اور عمومی انتظامی صورتحال پر گفتگو شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے تیار کردہ خصوصی اور جامع رپورٹس بھی وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے معزز ارکان کے سامنے پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
امن و امان اور آئینی و انتظامی فیصلے:
اجلاس کے متعین کردہ ایجنڈے میں صوبہ خیبرپختونخوا کے اندر امن و استحکام کی بحالی، تحفظ اور گورننس کے بہتری سے متعلق انتہائی اہم امور شامل ہیں۔ حکومتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ نازک صورتحال کے تناظر میں وفاقی کابینہ کے اس اجلاس میں اہم آئینی اور انتظامی فیصلوں کی منظوری متوقع ہے۔
صوبائی معاملے پر یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک کی اعلیٰ سیاسی اور حکومتی قیادت کے درمیان اہم بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں دہشتگردی میں اضافے کی ذمہ دار ہے،عطا تارڑ
صدر اور وزیراعظم کی ملاقات اور آئینی اقدامات:
دوسری جانب گزشتہ روز صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی تھی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے معاملے پر باقاعدہ اتفاق ہو گیا ہے، جبکہ 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس طلب کرنے کا بھی حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔




