جب آپ وزن کم کرتے ہیں تو کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ وہ چربی آخرکار جاتی کہاں ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چربی پسینے، پیشاب یا سانس کے ذریعے جسم سے خارج ہوتی ہے، اور اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تینوں طریقے ہی اس عمل میں شامل ہیں۔
چربی بنیادی طور پر ایک کاربن پر مبنی ایندھن ہے، اور بالکل اسی طرح جیسے کوئی کاربن پر مبنی ایندھن جلانے والی کار ہوتی ہے، ہمارا جسم بھی چربی کو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی میں جلا دیتا ہے۔ میٹابولک نیوٹریشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر ٹام رفائی (Tom Rifai) کے مطابق، اس پورے عمل کے پیچھے ایک تفصیلی سائنسی عمل کارفرما ہوتا ہے۔
جسم سے چربی کس طرح باہر نکلتی ہے؟
ہمارا جسم اضافی توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جسے ہم جگر اور پٹھوں میں کاربوہائیڈریٹس اور چربی کے خلیات کی صورت میں محفوظ رکھتے ہیں۔ چربی کے یہ خلیات بنیادی طور پر ہائیڈروجن، کاربن اور آکسیجن پر مشتمل ہوتے ہیں، اور توانائی ان انووں کے درمیان موجود بندھنوں میں مقید ہوتی ہے۔ جب ہم وزن کم کرنے کے لیے چربی جلاتے ہیں، تو ہم سانس کے ذریعے لی جانے والی آکسیجن اور قدرتی ہورمونز کی مدد سے ان کیمیائی بندھنوں کو توڑتے ہیں۔ اس عمل سے جو توانائی آزاد ہوتی ہے وہ روزمرہ کے حیاتیاتی افعال، جسمانی سرگرمیوں اور جسم کا درجہ حرارت نارمل رکھنے کے لیے حرارت پیدا کرتی ہے۔ جب یہ چربی جلانے کا عمل مکمل ہو جاتا ہے، تو آخری فضلے کے طور پر پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ بچ جاتے ہیں، جو بالترتیب پسینے، پیشاب اور سانس کے راستے خارج ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر محکمہ صحت: ملازمین کے لیے بائیو میٹرک حاضری لازمی قرار، نیا سسٹم نافذ
خوراک، ورزش اور وزن میں کمی کا تعلق:
چربی گھٹانے اور وزن کو مستقل طور پر کنٹرول میں رکھنے کے لیے غذا اور ورزش دونوں کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ جب آپ روزانہ جلنے والی کیلوریز سے کم توانائی یا غذائیت حاصل کرتے ہیں، تو جسم اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جسم میں محفوظ شدہ چربی کے ذخائر کا رخ کرتا ہے۔ ڈاکٹر ٹام رفائی کے مطابق، وزن گھٹانے کے لیے غذا بنیادی اہمیت رکھتی ہے جبکہ وزن کو برقرار رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی یا ورزش کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ورزش کرنے سے چربی جلانے کا عمل اس لیے تیز ہو جاتا ہے کیونکہ اس دوران آپ زیادہ گہرے اور بار بار سانس لیتے ہیں، جس سے زیادہ آکسیجن جسم کو ملتی ہے اور اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ باہر نکلتی ہے۔ ورزش پٹھوں کے ضیاع کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے، اس لیے صحت مند طرزِ زندگی کے لیے ہلکی پھلکی سرگرمیاں، روزانہ آٹھ ہزار یا اس سے زیادہ قدم چلنا، اور ہفتے میں 150 سے 300 منٹ تک کی ورزش کو معمول بنانا چاہیے۔




