لکھ پتی مالیت کی قیمتی لکڑی ضائع ہونے لگی، عام شہریوں کے لیے منظوری کا عمل پیچیدہ جبکہ جنگلات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے
آزاد کشمیر کے جنگلات میں لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی لکڑی گلنے سڑنے لگی ہے، جبکہ دوسری جانب عام شہریوں کو گھریلو استعمال اور تعمیراتی ضروریات کے لیے لکڑی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ لکڑی کی منظوری کے حصول کے لیے عام آدمی کو کئی کئی ماہ تک سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس کے باعث لوگ اپنی مجبوریوں کے تحت جنگلات سے ہری بھری لکڑی کاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
مقامی شہریوں کے مطابق جنگلات میں پہلے سے موجود قیمتی لکڑی کو بروقت استعمال میں لانے کے بجائے اسے یوں ہی سڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقی ضرورت مند افراد کو لکڑی کے حصول میں سخت دشواری پیش آتی ہے۔ دوسری جانب مبینہ طور پر ٹمبر مافیا بھی سرگرم ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے آزاد کشمیر کے قیمتی اور سرسبز و شاداب جنگلات کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چکار رینج میں محکمہ جنگلات کی کارروائی، لاکھوں کی غیر قانونی لکڑی ضبط
شہریوں کا مطالبہ اور لکڑی کی شفاف تقسیم:
عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جنگلات میں ضائع ہونے والی اس لکڑی کو شفاف طریقہ کار کے تحت مستحق اور ضرورت مند افراد تک پہنچایا جائے تاکہ عام شہریوں کی ضروریات احسن طریقے سے پوری ہو سکیں۔
شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ لکڑی کی منظوری کے طویل اور پیچیدہ عمل کو حد الامکان آسان بنایا جائے، اور غیر قانونی کٹائی نیز لکڑی کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کی جائے، تاکہ اس کے ذریعے جنگلات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے اور عوام کی مشکلات کا بھی ازالہ ہو۔




