سینٹرل جیل ژوب سے 2قیدی جعلی عدالتی کاغذات کے ذریعے فرار

سینٹرل جیل ژوب سے رہائی کے جعلی عدالتی احکامات کے ذریعے 2قیدی فرار ہوگئے۔

جیل حکام کے مطابق اس معاملے پر ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دونوں قیدیوں اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ سپرٹنڈنٹ جیل ژوب سمیت 3اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سینٹرل جیرل مظفرآباد میں قیدی جاں بحق

محکمہ جیل کے حکام کے مطابق عبدالسلام اور امان اللہ نامی دو مجرمان منشیات کے مقدمات میں ژوب جیل میں 25، 25 سال قید کی سزا کاٹ رہے تھے جنہیں 30 مئی کو جعلی عدالتی احکامات پر رہا کیا گیا۔

حکام کے مطابق جعلی رہائی کے احکامات مغرب کے وقت ایک نامعلوم شخص جیل کے مرکزی گیٹ پر تعینات اہلکار کے حوالے کرکے چلا گیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق متعلقہ اہلکار نے عدالتی احکامات کی مناسب تصدیق اور ضروری جانچ پڑتال کے بغیر ان پر عمل درآمد کیا، جس کے نتیجے میں دونوں قیدیوں کو جیل سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

واقعے کا علم ہونے کے بعد محکمہ جیل نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات مکمل ہونے پر دونوں مفرور قیدیوں اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف سٹی پولیس اسٹیشن ژوب میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

محکمہ جیل کے حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں غفلت کے مرتکب پائے جانے والے سپرنٹنڈنٹ جیل ژوب سمیت تین اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تفتیش کرائمز برانچ کے سپرد کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قیدیوں کا نجی اسپتالوں میں علاج جیل مینول کی خلاف ورزی ہے، وفاقی آئینی عدالت

حکام کے مطابق کرائمز برانچ نے مفرور قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری اور جعلی عدالتی احکامات تیار کرنے اور جیل تک پہنچانے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کا سراغ لگانے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔

تحقیقات کے دوران جعلی دستاویزات کی تیاری، جیل حکام تک ان کی رسائی اور رہائی کے پورے عمل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔